مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 811
811 جماعت احمدیہ کی خدمات کا اقرار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو عظیم الشان خدمت اسلام کرنے والی جماعت اپنے پیچھے چھوڑی۔یہی کسر صلیب کا مفہوم ہے۔جماعت احمدیہ کو ایسے صحیح عقائد دیئے ، خصوصاً مسئلہ وفاتِ مسیح۔اور پھر دلائل کا وہ بے بہا خزانہ دیا کہ عیسائی مناظرین کی جرات نہیں کہ احمدی مناظرین کے بالمقابل میدان میں کھڑے ہوسکیں۔پھر لنڈن میں مسجد بنانا اور اس کے مینار سے مرکز کفر وشرک میں لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کا نعرہ بلند کرنا یہ بھی جماعت احمد یہ ہی کے حصہ میں آیا۔ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَآءُ۔ذیل میں چند اقتباسات مخالفین سلسلہ کی تحریرات سے درج کئے جاتے ہیں جن میں انہوں نے جماعت احمدیہ کی خدمات اسلامی کا خصوصاً معرکہ شدھی کے متعلق خدمات کا اقرار کیا ہے۔ا۔مولوی ظفر علی آف زمیندار لکھتے ہیں :۔مسلمانان جماعت احمد یہ اسلام کی انمول خدمت کر رہے ہیں جو ایثار۔کمر بستگی۔نیک نیتی اور تو کل علی اللہ ان کی جانب سے ظہور میں آیا ہے۔وہ اگر ہندوستان کے موجودہ زمانہ میں بے مثال نہیں تو بے انداز عزت اور قدر دانی کے قابل ضرور ہے۔جہاں ہمارے مشہور پیر اور سجادہ نشین حضرات بے حس و حرکت پڑے ہیں اس اولوالعزم جماعت نے عظیم الشان خدمت اسلام کر کے دکھا دی۔“ ( زمیندار ۲۴ جون ۱۹۲۳ء) ۲۔مولانا محمد علی صاحب جو ہر برا در مولانا شوکت علی صاحب مرحوم لکھتے ہیں:۔دو نا شکر گزاری ہوگی اگر جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد اور ان کی اس منظم جماعت کا ذکران سطور میں نہ کریں جنہوں نے اپنی تمام تر توجہات بلا اختلاف عقیدہ تمام مسلمانوں کی بہبودی کے لئے وقف کر دی ہیں۔یہ حضرات اس وقت اگر ایک جانب مسلمانوں کی سیاسیات میں دلچسپی لے رہے ہیں تو دوسری طرف تبلیغ اور مسلمانوں کی تنظیم اور تجارت میں بھی انتہائی جد و جہد سے منہمک ہیں۔اور وہ وقت دور نہیں جبکہ اسلام کے اس منظم فرقہ کا طرز عمل سواد اعظم اسلام کے لئے بالعموم اور ان اشخاص کے لئے بالخصوص جو بسم اللہ کے گنبدوں میں بیٹھ کر خدمت اسلام کے بلند بانگ و در باطن پیچ دعاوی کے خوگر ہیں مشعل راہ ثابت ہوگا۔“ ( اخبار ہمدرد د بلی ۲۶ ستمبر ۱۹۲۷ء)