مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 807 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 807

807 حصہ پنجم حضرت کی ذات پر اعتراضات ا۔ابن مریم کیسے ہوئے اعتراض:۔مرزا صاحب ابن مریم کس طرح ہو گئے آپ کی والدہ کا نام تو چراغ بی بی تھا۔جواب:۔(۱) إِطْلَاقُ اِسْمِ الشَّيْءِ عَلَى مَايُشَابِهُهُ فِي أَكْثَرِ خَوَاصِهِ جَائِزٌ حَسَنٌ۔(تفسیر کبیر جلد۲ صفحه۱۸۹) کہ ایک چیز کا نام دوسری چیز کو جواکثر خواص میں اس سے ملتی ہو ) دینا جائز ہے۔(۲) اسم علم بھی بطور مجاز دوسرے کے لئے بولا جاتا ہے۔چنانچہ بلاغت کی کتاب تلخیص المفتاح صفحہ ۶۰،۵۹ میں لکھا ہے وَلَا تَكُونُ عَلَمَا إِلَّا إِذَا تُضَمَّنَ نُوعٌ وَصَفِيَّةٌ كَحَاتَم۔“ که علم استعارہ استعمال نہیں ہوتا ہاں جب کوئی صفت پائی جائے تب اسم علم بھی استعمال ہو سکتا ہے۔جیسے حاتم ہے۔(تلخیص المفتاح از محمد عبد الرحمن قزوینی صفحه ۲۰۰۵۹ مطبع مجتبائی دہلی ) (۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔"مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي زُهْدِهِ فَلْيَنْظُرُ إِلى أَبِي الدَّرْدَاءِ منصب امامت صفحه ۵۳ مصنفہ سید اسمعیل شہید ) کہ تم میں سے جو شخص عیسی بن مریم کو زہد کی حالت میں دیکھنا چاہے وہ حضرت ابو درداء کو دیکھے۔(۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو یوسف والیاں“ قرار دیا ہے چنانچہ بخاری شریف میں ہے إِنَّ كُنَّ لَانْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوْسُفَ۔(بخارى كتاب الصلواة باب اهل العلم والفضلاء احق بالامامة) اس کا ترجمہ تجرید بخاری مترجم اردو سے نقل کیا جاتا ہے۔چنانچہ حفصہ نے عرض کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ٹھہر و بیشک یقینا تم لوگ یوسف کی ہم نشین عورتیں ہو۔“ ( تجرید جلد اصفحہ ۹۷) نوٹ۔یا د رکھنا چاہیے کہ ”صَوَاحِبُ “ جمع ہے صَاحِبَةٌ“ کی جس کے معنی ہیں ”بیوی جیسا کہ قرآن مجید میں ہے آلى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَ لَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ (الانعام:۱۰۲) کہ خدا کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ اس کی بیوی کوئی نہیں ہے۔پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ازواج مطہرات کو صَوَاحِبُ يُوسُفَ قرار دینے کے کیا معنی ہوئے۔