مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 771
771 میں اپنے نفس سے جہاد کیا۔یعنی خدا تعالیٰ کے راضی کرنے کو نفسانی خواہشوں کو روکا اور یہ بھی حضرت نے فرمایا ہے کہ رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ یعنی ہم نے چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف رجوع کیا یعنی غزا میں فی سبیل اللہ قتل ہونا یہ چھوٹا جہاد سمجھا گیا اور اپنے نفسانی خواہشوں کا توڑ نا بڑا جہاد قرار پایا۔قِيْلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْجِهَادُ الْأَكْبَرُ قَالَ أَلَا وَهِيَ مُجَاهَدَةُ النَّفْسِ (الرد المختار على الدر المختار كتاب فضل الجهاد ) یعنی پو چھا گیا کہ یا رسول اللہ ! جہادا کبر کیا ہے فرمایا کہ یہ نفس پر قہر کرنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفس پر قہر کرنے کو جہاد پر فضیلت فرمائی۔اس لئے کہ اس میں زیادہ رنج ہوتا ہے کیونکہ وہ جہاد خواہش پر چلنا ہوتا ہے اور مجاہدہ اس کا قہر کرنا۔پس تجھے خدا عزت فرمائے مجاہدہ نفس اور اس کے سیاست کا طریق واضح اور ظاہر ہے جو کہ سب دینوں اور مذاہبوں میں عمدہ ہے۔سب انبیاء کا آنا اور شریعت کا ثبوت اور کتابوں کا نازل ہونا اور تکلیف کے سب احکام مجاہدہ ہے“۔(کشف المحجوب مترجم اردو شائع کردہ شیخ الہی بخش ومحمد جلال الدین ۱۳۲۲ صفی ۱۹۳ ۱۹۲ طبوع، فیروز سن ۲۰۰۳ - کشف انجو ب فاری صفه ۲۱۳) ۴۔یہی عقیدہ حضرت حاتم اصم رحمتہ اللہ علیہ کا بھی ہے۔(ملاحظہ ہو تذکرۃ الاولیاء مصنفہ شیخ فرید الدین عطار باب ۲۷ مترجم اردو شائع کردہ شیخ برکت علی اینڈ سنز صفحہ ۱۶۷) ۵۔مولوی ابوالکلام آزاد اپنے رسالہ ”مسئلہ خلافت و جزیرہ عرب میں لکھتے ہیں :۔”جہاد کی حقیقت کی نسبت سخت غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں۔بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جہاد کے معنے صرف لڑنے کے ہیں۔مخالفین اسلام بھی اسی غلط انہی میں مبتلا ہو گئے۔حالانکہ ایسا سمجھنا اس عظیم الشان مقدس حکم کی عملی وسعت کو بالکل محدود کر دینا ہے۔جہاد کے معنے کمال درجہ کوشش کرنے کے ہیں۔قرآن وسنت کی اصطلاح میں اس کمال درجہ سعی کو جو ذاتی اغراض کی جگہ حق پرستی اور سچائی کی راہ میں کی جائے جہاد کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔یہ سعی زبان سے بھی ہے۔حال سے بھی ہے۔اتفاق وقت و عمر سے بھی محنت و تکالیف برداشت کرنے سے بھی ہے اور دشمنوں کے مقابلہ میں لڑنے اور اپنا خون بہانے سے بھی ہے جس سعی کی ضرورت ہو۔اور جو سعی جس کے امکان میں ہواس پر فرض ہے اور جہاد فی سبیل اللہ میں لغت و شرع دونوں اعتبار سے داخل۔یہ بات نہیں ہے کہ جہاد سے مقصود مجردلڑائی ہی ہو۔سورۃ فرقان میں ہے۔فَلَا تُطِعِ الْكَفِرِينَ وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا - الفرقان :۵۳ یعنی کفار کے مقابلہ میں بڑے سے بڑا جہاد کرو۔سورۃ فرقان بالاتفاق مکی ہے اور معلوم ہے کہ جہاد بالسیف