مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 770 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 770

770 سر محمد اقبال آج کا ملا فی سبیل اللہ جہاد تو کر نہیں سکتا۔البتہ فی سبیل اللہ فساد کے لئے ہر وقت تیار ہے۔(نعوذ بالله من شرور هذه الطائفة) دیگر علماء کی شہادتیں اس امر کے مزید ثبوت کے طور پر کہ جہادا کر تبلیغ واقامت دین و اصلاح نفس ہی کا دوسرا نام ہے چند علماء کے اقوال ذیل میں درج ہیں :۔ا۔تفسیر قادری موسومه به تفسیر حسینی مترجم اردو جلد نمبر ۴۲۰ زیر آیت "يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُوْنَكُمْ مِنَ الْكُفَّارِ (التوبة: ۱۲۳) لکھا ہے:۔حق تعالیٰ مسلمانوں کو پاس ( نزدیک۔خادم ) کے کافروں سے قتال کرنے کا حکم فرماتا ہے۔اور کوئی دشمن نفس امارہ کفرانِ نعمت کرنے والے سے بدتر نہیں ہے اور سب دشمنوں سے زیادہ تیرے قریب وہی ہے کہ اغدای عَدُوكَ نَفْسُكَ الَّذِي بَيْنَ جَنْبَيْكَ ( بڑا دشمن تیرا نفس ہے جو تیرے دونوں پہلوؤں کے درمیان ہے ) تو اس سے قتال میں مشغول ہونا کہ جہادا کبر ہے۔ادنی اور انسب معلوم ہوتا ہے اور مثنوی مولانا روم علیہ الرحمۃ میں اسی کی طرف اشارہ ہے:۔اے شہاں کشتیم ما خصم بروں ماند از و خصمی بتر در اندروں قَدْ رَجَعُنَا مِنْ جِهَادِ الْأَصْغَرِيم این زماں اندر جہادِ اکبریم سهل شیرے دال کہ صفها بشکند شیر آن را داں که خود را بشکند ( تفسیر قادری موسومه به حسینی جلد ا صفحه ۴۲۰ مترجم اردوز بر آیت پایها الذین امنوا قاتلوا الذين يلونكم من الكفار وليجدوا فيكم غلظة۔۔۔سورة توبة : ۱۲۳) ۲۔اس زمانہ میں ملحدین کے ساتھ بحث و مناظرہ کرنا ہی جہاد ہے۔“ حضرت داتا گنج بخش کا ارشاد ( تفسیر حقانی طبع ششم جلده صفحه ۲۱۳)۔حضرت داتا گنج بخش ہجویری اپنی کتاب کشف المحجوب میں تحریر فرماتے ہیں:۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔اَلْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي اللَّهِ (تَرَمَدَى ابواب فضائل الجهاد باب ما جاء في فضل من مات مرابطا) یعنی مجاہد وہ شخص ہے جس نے راہ خدا