مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 743 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 743

743 ہے جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ اشتہار مخالفین کے اس الزام کے جواب میں بطور ذب، یعنی بغرض رفع التباس شائع فرمایا تھا نہ کہ بطور مدح! مخالفین نے حضرت اقدس علیہ السلام پر گورنمنٹ کا باغی اور غدار ہونے کا الزام لگایا تھا۔یہ الزام لگانے والے صرف مذہبی مخالف ہی نہیں بلکہ حضرت کے خاندانی اور ذاتی دشمن بھی تھے جیسا کہ اسی خود کاشتہ پودہ “ والی مندرجہ بالا عبارت سے ظاہر ہے۔۴۔حضرت اقدس کی ساری عمر عیسائیت کے استیصال میں گزری۔آپ وہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے انگریزوں اور دوسری یورپین اقوام اور پادریوں کو کھلے الفاظ میں ۱۸۹۰ء میں (یعنی اس مکتوب سے آٹھ سال پہلے ) دجال قرار دیا۔انجیلی تعلیم اور انجیلی یسوع کی وہ خبر لی کہ ممکن نہیں کہ اس کو پڑھ کر عیسائی خوش ہو۔پس یہ کہنا کہ وہ حکومت انگریزی جس کا مذہب عیسائیت ہے اور جو لاکھوں روپیہ چرچ کے ذریعہ تبلیغ عیسائیت میں صرف کرتی ہے۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عیسائیت کی تر دید اور استیصال کے لئے سازش کر کے کھڑا کیا انتہائی شرارت اور کذب بیانی ہے۔۵۔اگر بقول تمہارے حضرت اقدس نے مسیحیت اور مہدویت کا دعوی انگریز کی سازش“ سے کیا تھا اور آپ اس کے ایجنٹ تھے تو پھر آپ کو مخالفین کی ریشہ دوانیوں کے باعث یہ خوف کس طرح ہو سکتا تھا کہ گورنمنٹ کے دل میں بدگمانی پیدا ہوگی۔پس جیسا کہ اس عبارت کے لفظ خاندان سے ثابت ہے حضرت اقدس کا اشارہ اس اشتہار کے صفحہ کی مندرجہ ذیل عبارت کے مضمون کی طرف ہے۔”ہمارا خاندان سکھوں کے ایام میں ایک سخت عذاب میں تھا اور نہ صرف یہی تھا کہ انہوں نے ظلم سے ہماری ریاست کو تباہ کیا اور ہمارے صدہا دیہات اپنے قبضہ میں کئے بلکہ ہماری اور تمام پنجاب کے مسلمانوں کی دینی آزادی کو بھی روک دیا۔ایک مسلمان کو بانگ نماز پر بھی مارے جانے کا اندیشہ تھا چہ جائیکہ اور رسوم عبادت آزادی سے بجالا سکتے۔پس یہ اس گورنمنٹ محسنہ کا ہی احسان تھا کہ ہم نے اس جلتے ہوئے تنور سے خلاصی پائی۔“ ( تبلیغ رسالت جلد هفتم صفحه ۱) پس اس تمام عبارت میں حضرت اقدس اپنے خاندان کی تباہ شدہ جا گیر اور پھر اس کے ایک نہایت ہی قلیل حصہ کی انگریزی حکومت کے زمانے میں واگزاری کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں نہ کہ اپنی جماعت کی طرف۔۶۔حضرت اقدس علیہ السلام یا آپ کی اولا د نے انگریز سے کونسا مربع یا جاگیر حاصل کی یا