مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 734 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 734

734 چنانچہ حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:۔ہم نے وہاں (حبشہ میں) نہایت اطمینان سے زندگانی بسر کی۔پھر تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ نجاشی کی سلطنت میں کوئی دعویدار پیدا ہوا اور اس نے نجاشی پر لشکرکشی کی۔فرماتی ہیں اس خبر کوسن کر ہم لوگ بہت رنجیدہ ہوئے اور یہ خیال کیا کہ اگر خدانخواستہ وہ مدعی غالب ہوا تو نامعلوم ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے۔فرماتی ہیں۔نجاشی بھی اپنا لشکر لے کر اس کے مقابلہ کو گیا اور دریائے نیل کے اس پار جنگ واقع ہوئی۔فرماتی ہیں صحابہ نے آپس میں کہا کوئی ایسا شخص ہو جو دریا کے پار جا کر جنگ کی خبر لائے زبیر بن عوام نے کہا میں جاتا ہوں۔صحابہ نے ایک مشک میں ہوا بھر کر ان کے حوالے کی اور وہ اس کو سینے کے تلے دبا کر تیرتے ہوئے دریا کے پار گئے اور وہاں سے سب حال تحقیق کر کے واپس آئے۔فرماتی ہیں ہم یہاں نجاشی کی فتح کے واسطے نہایت تضرع وزاری کے ساتھ خدا سے دعا مانگ رہے تھے کہ اتنے میں زبیر بن عوام واپس آئے اور کہا کہ اے صحابہ ! تم کو خوشخبری ہو کہ نجاشی کی فتح ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے دشمن کو ہلاک کیا۔فرماتی ہیں پھر تو نجاشی کی سلطنت خوب مستحکم ہو گئی اور جب تک ہم وہاں رہے نہایت چین اور آرام سے رہے۔یہاں تک کہ پھر حضور کی خدمت میں مکہ میں حاضر ہوئے۔(سیرت ابن ہشام مترجم اردو صفحه ۱۱۳ جلد۲) پس اگر کوئی انصاف پسند اور غیر متعصب انسان سکھ نظام کے صبر آزما دور ۱۸۵۷ء کے سانحہ اور اس کے بعد کے تاریخی حالات کو مدنظر رکھ کر ان عبارات کو پڑھے اور اس امر کو بھی پیش نظر رکھے کہ وہ تحریرات مخالفین کی طرف سے انگریزی گورنمنٹ کا باغی ہونے کے جھوٹے الزام کی تردید میں ضرورتاً لکھی گئی تھیں۔تو وہ کبھی ان کو محل اعتراض قرار نہیں دے سکتا۔تصویر کا دوسرا رخ پھر یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے انگریز کی جتنی تعریف کی ہے وہ صرف مادی اور دنیوی امور میں اس کی قابل تعریف خوبیوں کی ہے لیکن جہاں تک دینی اور روحانی پہلو کا تعلق ہے آپ نے انتہائی صفائی کے ساتھ لگی لپٹی رکھے بغیر بے خوف ہوکر اس کی انتہائی مذمت کی ہے اور آپ نے کبھی اس امر کی پرواہ نہیں کی کہ انگریز آپ کی ان تحریرات سے ناراض ہوتا ہے یا نہیں؟ آپ نے انگریز کو دقبال قرار دیا چنانچہ آپ وہ پہلے انسان ہیں جس نے انگریزی قوم کو دجال موعود“ قرار دیا اور میں سمجھتا