مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 732 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 732

732 انگریزی حکومت کی تعریف سکھوں کے ظلم وستم سے تقابل کے باعث تھی بعینہ اسی طرح حضرت مرزا صاحب کے زمانے میں بھی جب بعض مخالف علماء اور پادریوں نے حکومت وقت کو آپ اور آپ کی جماعت کے خلاف بھڑ کانے کی کوشش کی اور ”آپ پر باغی ہونے کا جھوٹا الزام لگایا تو ضروری تھا کہ حضرت مرزا صاحب اس الزام کی تردید پر زور الفاظ میں کرتے اور حکومت کو اپنے ان جذبات امتنان سے اطلاع دیتے جو سکھوں کے وحشیانہ مظالم سے نجات حاصل ہونے کے بعد انگریزی حکومت کے پر امن دور میں آجانے کے باعث آپ کے دل میں موجود تھے۔حضرت مرزا صاحب کی تحریرات چنانچہ حضرت مرزا صاحب نے اپنی ان تحریرات میں جن میں آپ نے انگریزی حکومت کی امن پسندانہ پالیسی کی تعریف فرمائی ہے بار بار اس پہلو کا ذکر فرمایا ہے۔فرماتے ہیں:۔الف۔مسلمانوں کو ابھی تک وہ زمانہ نہیں بھولا جبکہ وہ سکھوں کی قوم کے ہاتھوں ایک دہکتے ہوئے تنور میں مبتلا تھے اور ان کے دست تعدی سے نہ صرف مسلمانوں کی دنیا ہی تباہ تھی بلکہ ان کے دین کی حالت اس سے بھی بدتر تھی۔دینی فرائض کا ادا کرنا تو در کنار بعض اذانِ نماز کہنے پر جان سے مارے جاتے تھے۔ایسی حالت زار میں اللہ تعالیٰ نے دور سے اس مبارک گورنمنٹ کو ہماری نجات کے لئے ابر رحمت کی طرح بھیج دیا۔جس نے آن کر نہ صرف ان ظالموں کے پنجہ سے بچایا بلکہ ہر طرح کا امن قائم کر کے ہر قسم کے سامان آسائش مہیا کئے اور مذہبی آزادی یہاں تک دی کہ ہم بلا دریغ اپنے دینِ متین کی اشاعت نہایت خوش اسلوبی سے کر سکتے ہیں۔“ (اشتہار، ا جولائی ۱۹۰۰ تبلیغ رسالت جلد ۹ صفحه ۲۱) ب۔رہی یہ بات کہ اس ( شیخ محمد حسین بٹالوی) نے مجھے گورنمنٹ انگریزی کا باغی قرار دیا۔سوخدا تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ عنقریب گورنمنٹ پر بھی یہ بات کھل جائے گی کہ ہم دونوں میں سے کس کی باغیانہ کارروائیاں ہیں۔اگر یہ گورنمنٹ ہمارے دین کی محافظ نہیں تو پھر کیونکر شریروں کے حملوں سے ہم محفوظ ہیں۔کیا یہ امرکسی پر پوشیدہ ہے کہ سکھوں کے وقت میں ہمارے دینی امور کی کیا حالت تھی اور کیسے ایک بانگ نماز کے سننے سے ہی مسلمانوں کے خون بہائے جاتے تھے۔کسی مسلمان