مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 716
گیا ہے۔716 خوشامد کی تعریف:۔افسوس ہے کہ معترضین حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام پر خوشامد کا الزام لگاتے وقت ایک ذرہ بھی خدا کا خوف نہیں کرتے کیونکہ اول تو آپ کی تحریرات کے اس حصہ پر جس میں انگریزی حکومت کے ماتحت مذہبی آزادی حکومت کی مذہبی امور میں غیر جانبداری اور قیام امن و انصاف کے لئے عادلانہ قوانین کے نفاذ کی تعریف کی گئی ہے۔لفظ ” خوشامد کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ظاہر ہے کہ برمحل سچی تعریف کو خوشامد نہیں کہہ سکتے بلکہ خوشامد جھوٹی تعریف کو کہتے ہیں جو کسی نفع کے حصول کی غرض سے کی جائے۔پس حضرت مرزا صاحب پر انگریز کی خوشامد کا الزام لگانے والوں پر لازم ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ آپ نے انگریزی حکومت کے بارے میں جو تعریفی الفاظ استعمال فرمائے وہ حقیقت پر مبنی نہ تھے بلکہ خلاف واقعات تھے اور یہ کہ آپ نے انگریز سے فلاں نفع حاصل کیا لیکن ہم یہ بات پورے وثوق اور کامل تحدی سے کہہ سکتے ہیں اور مخالف سے مخالف بھی ضرور یہ اقرار کرنے پر مجبور ہوگا کہ حضرت مرزا صاحب نے انگریزی حکومت کے دور میں مذہبی آزادی تبلیغ کی آزادی اور قیام امن وانصاف کی جو تعریف فرمائی وہ بالکل درست تھی۔کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جو مذہبی آزادی انگریزی نظام کے ماتحت رعایا کو حاصل تھی۔اس کی مثال موجودہ زمانہ میں کسی اور حکومت میں پائی نہیں جاتی۔حضرت سیّد احمد بریلوی کے ارشادات چنانچہ حضرت سید احمد بریلوی مجد دصدی سیز دہم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی انگریزی حکومت کے اس قابل تعریف پہلو کی بے حد تعریف فرمائی ہے۔فرماتے ہیں:۔الف۔سرکار انگریزی که او مسلمانان رعایا ئے خود را برائے ادائے فرائضِ مذہبی شان آزادی بخشیده است “ (سوانح احمدی مصنفہ مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری صفحہ ۱۵ مطبع سٹیم پریس لاہور ) ب سر کار انگریزی مسلمانوں پر کچھ ظلم اور تعدی نہیں کرتی اور نہ ان کو فرض مذہبی اور عبادت لازمی سے روکتی ہے۔ہم ان کے ملک میں علانیہ وعظ کہتے اور ترویج مذہب کرتے ہیں وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی بلکہ اگر ہم پر کوئی زیادتی کرتا ہے تو اس کو سزا دینے کو تیار ہیں “ ( سوانح احمدی مصنفہ مولوی محمد جعفر تھانیسری صفحہ اے مطبع سٹیم پریس لاہور )