مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 699
699 ۳۳۔یسوع کی مذمت اور حضرت مسیح کی تعریف ا۔اس کے متعلق بحث دیکھو مضمون ”قرآنی مسیح اور انجیلی یسوع پاکٹ بک ہذا۔۔ہم اصولی طور پر تناقضات کے مضمون کے شروع میں صفحہ ۶۸۰ پاکٹ بک ہذا پر ثابت کر آئے ہیں کہ محض ایک لفظ کے دو جگہ استعمال ہونے اور اس کے ایجاب وسلب سے تناقض ثابت نہیں ہوتا۔جہاں یسوع کی مذمت ہے اور اس کی تعلیم کو ناقص قرار دیا گیا ہے۔وہاں عیسائیوں کے بالمقابل انجیلی مسلمات پر اعتراض کیا ہے اور جہاں مسیح عیسی یا یسوع کی تعریف کی ہے۔وہاں اسلامی تعلیم کے لحاظ سے اہل اسلام کو مخاطب کیا ہے۔پس دونوں عبارتوں میں تناقض نہیں۔اسی طرح حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۵ پر جو ایک شریر کے جسم میں یسوع کی روح قرار دی ہے وہاں انجیلی یسوع مراد ہے۔مگر تحفہ قیصریہ صفہ ۱۲ تا ۲۱ طبع اول میں حقیقی اور اسلامی مسیح مراد ہیں۔لہذا کوئی تناقض نہیں ہے۔۳۴۔حیات مسیح میں اختلاف مسیح کی زندگی اور موت اور دوبارہ نزول کے متعلق مفصل بحث مسئلہ وفات مسیح کے ضمن میں (پاکٹ بک ہذا ) ملاحظہ ہو۔۳۵ مسیح کی بادشاہت مسیح کی بادشاہت کی جو تاویل حضرت اقدس نے براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 29 طبع اول پر کی ہے وہ حضور کی اپنی طرف سے ہے جو اسلامی نقطۂ نگاہ ہے اور اعجاز احمدی صفحہ ۱۳ و صفحه ۱۴ پر حضرت نے یہودیوں کا اعتراض نقل کیا ہے وہ اپنی طرف سے نہیں۔ظاہر ہے کہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۷۹ والی تاویل میں حضرت صاحب نے اپنی طرف سے بادشاہت کو آسمانی بادشاہت“ قرار دے کر حضرت مسیح کی اجتہادی غلطی تسلیم فرمائی ہے اب یہ تاویل یہودی معترضین پر حجت نہیں۔نہ ان کو مسلم ہے اسی وجہ سے اعجاز احمدی صفحہ ۱۳ طبع اول پر حضرت صاحب نے اپنے مخالفین کو کہا ہے کہ بتاؤ یہودیوں کو ان اعتراضات کا تم کیا جواب دے سکتے ہو۔پس دونوں عبارتوں میں کوئی تناقض نہ ہوا۔۳۶ سخت کلامی کا جواب مرزا صاحب نے مولویوں کو گالیاں دی ہیں۔مثلاً ”اے بدذات فرقہ مولویاں۔“ ( انجام آنقم روحانی خزائن جلدا اصفحه ۲۱)