مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 697 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 697

697 66 "جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا تو وہ مومن کیونکر ہوسکتا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۸) پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا انکار خواہ اپنی ذات میں کفر نہ ہو۔مگر بوجہ اس کے کہ آپ کا انکار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( جو تشریعی نبی ہیں) کے انکار کو مستلزم ہے لہذا کفر ہے۔پس دونوں عبارتوں میں کوئی تناقض نہیں۔کیونکہ تریاق القلوب صفحہ ۳۰ طبع اوّل کی عبارت میں بتایا گیا ہے کہ غیر تشریعی انبیاء کا انکار بالذات کفر نہیں ہوتا۔اور حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۳ طبع اول کی عبارت میں بتایا گیا ہے کہ چونکہ غیر تشریعی نبی کا انکار ستلزم ہوتا ہے۔تشریعی نبی کے انکار کو اس لئے وہ بالواسطہ کفر ہے۔۳۱۔تشریعی نبوت کا دعویٰ حضرت مرزا صاحب نے اپنی متعدد تصانیف میں تحریر فرمایا ہے کہ میں غیر تشریعی نبی ہوں۔صاحب شریعت نہیں مگر اربعین نمبر ہ صفحہ طبع اول متن و حاشیہ پر لکھا ہے کہ میں صاحب شریعت نبی ہوں۔جواب:۔سراسر افتراء ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے ہرگز اربعین چھوڑ کسی اور کتاب میں بھی تحریر نہیں فرمایا۔کہ میں تشریعی نبی ہوں بلکہ حضور علیہ السلام نے اپنی آخری تحریر میں بھی ھذت کے ساتھ اس الزام کی تردید فرمائی ہے۔جیسا کہ فرماتے ہیں :۔یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ میں اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں سمجھتا۔اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعت اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں۔یہ الزام میرے پر میچ نہیں۔بلکہ ایسا دعویٰ میرے نزدیک کفر ہے اور نہ آج سے 66 (اخبار عام ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ء) بلکہ ہمیشہ سے اپنی ہر ایک کتاب میں یہی لکھتا آیا ہوں کہ اس قسم کی نبوت کا مجھے کوئی دعوی نہیں اور یہ سراسر میرے پر تہمت ہے۔“ سو جو حوالہ تم اربعین نمبر ۴ صفحه ۶ طبع اول متن و حاشیہ سے پیش کرتے ہو۔اس میں ہرگز یہ نہیں لکھا ہوا کہ میں تشریعی نبی ہوں۔آپ نے تو مخالفین کو ملزم کرنے کے لیے تو تَقَوَّل کی بحث کے ضمن میں تحریر فرمایا ہے کہ اگر کہو کہ لو تقول والا ۲۳ سالہ معیار تشریعی انبیاء کے متعلق ہے تو یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔پھر معترض کو مزید ملزم اور لاجواب کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ