مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 696
696 ایک سال کے بعد ہی انکم ٹیکس کا سوال ہوا تو جھٹ لکھ دیا کہ میرے مریدوں کی تعدا د دوصد ہے۔(ضرورت الامام صفحه ۴۳ طبع اول) جواب:۔پہلی تعداد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے مریدوں کی عورتوں اور بچوں سمیت مجموعی لکھی ہے اور دوسری ضرورت الامام صفحہ ۴۳ طبع اول‘ والی تعداد صرف چندہ دینے والوں کی ہے۔اس میں چندہ نہ دینے والے بچے اور عورتیں شامل نہیں ہیں۔کیا اس فہرست میں حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ وغیرہ کے نام بھی درج ہیں؟ ظاہر ہے کہ مؤخر الذکر موقعہ پر سوال آمدنی کا تھا اور وہی لسٹ مطلوب تھی جو ان لوگوں کی ہو جو خود کماتے اور چندہ دیتے ہیں۔پس جب مجسٹریٹ نے ان لوگوں کی لسٹ طلب کی جو چندہ دیتے تھے۔تو کیا اس کے جواب میں ان لوگوں کی فہرست دے دی جاتی جو چندہ نہیں دیتے تھے؟ بریں عقل و دانش بہائید گریست ۳۰۔منکرین پر فتوی کفر اعتراض:۔مرزا صاحب تریاق القلوب صفحہ ۳۰ اطبع اول متن و حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ :۔”میرے دعوی کے انکار سے کوئی کا فریا دجال نہیں ہو سکتا۔مگر عبدالحکیم مرتد کو لکھتے ہیں کہ جس شخص کو میری دعوت پہنچی ہے اور وہ مجھے نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں ہے؟ جواب: - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود اس اعتراض کا مفصل جواب حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۵ تا صفحه ۶۷ طبع اول پر دیا ہے۔وہاں سے دیکھا جائے۔۲۔پہلی عبارت میں لکھا ہے کہ میرے دعوی کے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوتا کیونکہ ”اپنے دعوئی کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا انہی نبیوں کی شان ہے۔جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نئی شریعت لاتے ہیں۔گویا صرف تشریعی نبی کا انکار کفر ہے۔اب حقیقۃ الوحی میں حضرت نے اپنے دعوئی کے متعلق لکھا ہے کہ ” جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے۔" (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۸)