مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 692
692 استعمال نہیں ہوا۔بلکہ دونوں جگہ اس کا مفہوم مختلف ہے۔ایک جگہ اگر گمراہ مراد ہے اور اس کی نفی ہے۔تو دوسری طرف تلاش کرنے والا قرار دینا مقصود ہے اور اس امر کا اثبات ہے۔پس ہمارے مخالفین کا یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کرنا کہ لفظ دونوں جگہ ایک ہی ہے سیاق وسباق عبارت دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔حد درجہ کی نا انصافی ہے۔قرآن کریم کا ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی سے نہیں پڑھا ہم معترض کی پیش کردہ دونوں عبارتوں پر ان کے سیاق وسباق کے لحاظ سے جب غور کرتے ہیں۔تو صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۱۸۰ حاشیہ کی عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ میری چھ سات سال کی عمر میں میرے والد صاحب نے میرے لئے ایک استاد مقرر کیا۔جن سے میں نے قرآن مجید پڑھا۔اور ہر عظمند انسان بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ چھ سات سال کے عرصہ میں بچہ قرآن مجید کے معانی و مطالب اور حقائق و معارف سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔پس یہ امرتسلیم ہی نہیں کیا جاسکتا کہ حضرت کے والد بزرگوار نے چھ سات سال کی عمر کے بچہ کو معارف قرآنیہ سکھانے کے لیے ایک استاد مقرر کیا ہو۔پس اس عبارت میں چھ سات سال کی عمر کا قرینہ ہی اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ حضور نے اس حوالہ میں قرآن مجید کے مجرد الفاظ کا استاد سے پڑھنا ستسلیم فرمایا ہے۔مگر حضور کی کسی تحریر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قرآن مجید کا ترجمہ یا قرآنی مطالب بھی حضور نے خدا کے سوا کسی استاد سے پڑھے ہوں۔اس کے بالمقابل معترض کی پیش کردہ عبارت از ایام الصلح ، صفحہ ۴۷ طبع اول میں حضرت نے صاف لفظوں میں یہ فرمایا ہے۔علیم دین اور اسرار دین کے لحاظ سے قرآن مجید کسی سے نہیں پڑھا۔اور یہ حقیقت ہے جس کی نفی کسی دوسری عبارت میں نہیں کی گئی۔اس امر کے ثبوت میں کہ ایام الصلح ، کی عبارت میں قرآن مجید کے الفاظ کا ذکر نہیں بلکہ قرآن مجید کے معانی و مطالب کے کسی انسان سے سیکھنے کی نفی ہے۔ہم ایام الصلح کی عبارت کا سیاق و سباق اور اس کا مضمون دیکھتے ہیں۔ایام الصلح کو دیکھنے سے یہ معلوم ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس موقعہ پر اپنے دعویٰ مہدویت کی صداقت کے دلائل کے ضمن میں ایک دلیل ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔(۱) ''آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا ہے سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین