مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 691 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 691

691 کا اثبات کیا گیا ہو۔مگر اس کے باوجود مفہوم اس لفظ کا دونوں جگہ مختلف ہو۔بغرض تشریح دو مثالیں لکھتا ہوں۔ایک مثال ا۔قرآن مجید کی رو سے بحالت روزہ بیوی سے مباشرت ممنوع ہے مگر بخاری، مسلم و مشکوۃ متینوں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مندرجہ ذیل روایت درج ہے:۔عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَ هُوَ صَائِمٌ وَ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِارْبِهِ ( بخاری جلد ا كتاب الصوم باب المباشرة للصائم ومشكوة كتاب الصوم باب تنزيه الصوم و تجرید بخاری جلد اصفحه ۳۷۰) کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روزہ میں ازواج کے بوسے لے لیا کرتے تھے اور ان سے مباشرت کرتے تھے۔اس حالت میں کہ آپ کا روزہ ہوتا تھا مگر آپ اپنی خواہش پر تم سب سے زیادہ قابور رکھتے تھے۔اب کیا قرآن کریم کے حکم لَا تُبَاشِرُ وهُن “ (البقرة: ۱۸۸) کو مندرجہ بالا روایت کے الفاظ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ کے بالمقابل رکھ کر کوئی ایماندار شخص یہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ دونوں جگہ ایک ہی چیز کی نفی اور ایک ہی چیز کا اثبات کیا گیا ہے۔ظاہر ہے کہ حدیث مندرجہ بالا میں ”مباشرت“ سے مراد مجامعت نہیں بلکہ محض عورت کے قریب ہونا ہے اور اس پر قرینہ اسی روایت کا اگلا جملہ وَكَانَ اَمْلَكَكُمْ لِاربہ ہے لیکن اس کے برعکس قرآن مجید میں لفظ مباشرت آیا ہے وہاں اس سے مراد مجامعت“ ہے۔پس گو دونوں جگہ لفظ ایک ہی استعمال ہوا ہے مگر اس کا مفہوم دونوں جگہ مختلف ہے اور سیاق و سباق عبارت سے ہمارے لئے اس فرق کا سمجھنا نہایت آسان ہے۔دوسری مثال قرآن مجید میں ہی ہے۔ایک جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے ”مَاضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوى “ (النجم :(۳) کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ”ضال نہیں ہوئے اور نہ راہ راست سے بھٹکے لیکن دوسری جگہ فرمایا۔وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدى (الضحی : ۸) کہ اے رسول ! ہم نے آپ کو ” ضال‘ پایا اور آپ کو ہدایت دی۔دونوں جگہ ”ضال “ ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ایک جگہ اس کی نفی کی گئی ہے مگر دوسری جگہ اس کا اثبات ہے کیا کوئی ایماندار کہہ سکتا ہے کہ ان دونوں عبارتوں میں تناقض ہے۔ہرگز نہیں کیونکہ ہر اہل علم دونوں عبارتوں کے سیاق و سباق سے سمجھ سکتا ہے کہ دونوں جگہ لفظ ”ضال‘ایک معنے میں