مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 689
689 ۲۷۔کسی سے قرآن پڑھنا " حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب "ایام اصلح روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۹۴ پر تحریر فرمایا ہے:۔کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔“ (ایام الصلح روحانی خزائن جلد ۴ صفر ۳۹۴) لیکن دوسری جگہ کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ۰ ۱۸ حاشیہ پر رقم فرماتے ہیں:۔” جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں (کتاب البرية روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۸۰ حاشیه ) جواب:۔اس کے متعلق گذارش یہ ہے کہ اعتراض کرتے وقت علمائے بنی اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے از راہ تحریف ایام الصلح روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۹۴ کی نصف عبارت پیش کرتے ہیں۔اصل حقیقت کو واضح کرنے کے لئے عبارت متنازعہ کا مکمل فقرہ درج ذیل ہے :۔سو آ نے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی اُستاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔سوئیں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفتر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔پس یہی مہدویت ہے جو نبوت محمدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرار دین بلا واسطہ میرے پر کھولے گئے۔( ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفر ی۳۹۴) معترض کی پیش کردہ عبارت کے سیاق میں علم دین اور سیاق میں اسرار دین“ کے الفاظ صاف طور پر مذکور ہیں جن سے ہر اہل انصاف پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اس عبارت میں قرآن کریم کے ناظرہ پڑھنے کا سوال نہیں بلکہ اس کے معانی و مطالب، حقائق و معارف کے سیکھنے کا سوال ہے اور عبارت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے موعود کا نام جو مہدی رکھا۔تو وہ اس لحاظ سے ہے کہ وہ علوم و اسرار دین