مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 652
652 ابراہیم علیہ السلام جن کو تم نبی مانتے ہو اور جن کے متعلق قرآن مجید میں ہے صدِّيقًا نَّبِيًّا (مریم: ۴۲) کہ وہ سچ بولنے والے نبی تھے تم ان کے متعلق بھی یہ کہتے اور مانتے ہو کہ انہوں نے تین جھوٹ بولے۔ا۔بخاری میں ہے:۔عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِى اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكْذِبُ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلاثًا۔۔۔۔۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمُ يَكْذِبُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلامُ إِلَّا ثَلاثَ كَذِبَاتٍ (بخاری کتاب بدء الخلق باب قول الله تعالیٰ واتخذ الله ابراهيم خليلا و مشكوة باب بدء الخلق وذكر الانبياء عليهم السلام پہلی فصل نيز مسلم كتاب الفضائل باب من فضائل ابراهیم خلیل الله ) که حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہ بول مگر تین جھوٹ۔۲ صحیح ترندی میں ہے:۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكْذِبُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ قَوْلُهُ اِنّى سَقِيمٌ وَلَمْ يَكُنْ سَقِيمًا وَقَوْلُهُ لِسَارَةَ أُخْتِى وَقَوْلُهُ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُ هُمُ۔۔۔۔هَذَا حَدِيثُ حَسَنٌ صَحِيحٌ۔ترمذی ابواب التفسير سورة الانبياء) کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے کبھی کسی چیز میں جھوٹ نہ بولا۔مگر صرف تین موقعوں پر۔ان کا کہنا کہ میں بیمار ہوں حالانکہ وہ بیمار نہ تھے۔پھر ان کا کہنا کہ یہ بت ان کے بڑے بت نے توڑے ہیں اور ان کا اپنی بیوی سارہ کو کہنا کہ یہ میری بہن ہے۔یہ حدیث صحیح ہے۔۳۔بخاری میں ہے کہ قیامت کے دن جب سخت گھبراہٹ طاری ہوگی اور لوگ بھاگے بھاگے سب انبیاء کے پاس جائیں گے کہ وہ ان کی خدا تعالیٰ کے حضور شفاعت کریں۔تو سب انکار کر دیں گے۔جب وہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو فَيَقُولُ لَهُمْ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضْبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنِّي قَدْ كُنْتُ كَذَبْتُ ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ فَذَكَرَ هُنَّ أَبُو حَيَّانَ فِي الْحَدِيثِ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي۔“ (بخاری کتاب التفسير باب ذرية من حملنا مع نوح) حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کو جواب دیں گے کہ میرا رب آج سخت غصہ میں ہے کہ اس سے قبل کبھی اتنا غضبناک نہ ہوا تھا اور نہ آج کے بعد کبھی ایسا غضبناک ہوگا اور میں نے تین جھوٹ بولے