مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 588
اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔588 (ب) الطَّلَاقُ لِرَضَاءِ الْوَالِدَيْنِ فَهُوَ جَائِزٌ۔(مشکوۃ صفحه۴۲۱ مطبع حیدری) کہ اپنے والدین کی خواہش کی تعمیل میں طلاق دینا جائز ہے۔( ج ) بخاری شریف میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ میں حضرت اسمعیل کو چھوڑ آئے اور ان کے وہاں پر جو ان ہو جانے کے بعد مکہ گئے تو حضرت اسمعیل گھر پر نہ تھے، ان کی بیوی گھر پر تھی۔آپ اس سے باتیں کرتے رہے اور جاتی دفعہ ان کی بیوی سے کہہ گئے کہ جب اسمعیل گھر آئیں تو انہیں میرا السلام علیکم کہ دینا اور کہنا کہ غَیر عُتْبَةَ بَابِكَ کہ اپنے دروازے کی دہلیز کو بدل دو۔جب حضرت اسمعیل گھر آئے تو ان کی بیوی نے حضرت ابراہیم کا پیغام دیا تو حضرت اسمعیل نے فرما یا ڈاک أَبِي وَقَدْ أَمَرَنِي أَنْ أُفَارِقَكِ الْحِقِی بِاَهْلِكِ فَطَلَّقَهَا وَتَزَوَّجَ مِنْهُمْ أُخْرَى (بخاری کتاب بدء الخلق باب يزفون النساء في الشيء ، تجرید بخاری مترجم اردو شائع کردہ فیروز اینڈسٹر مطبوعہ ۱۲۴۱ھ لاہور جلد ۲ صفحه ۱۳۷ و ۱۳۸) کہ وہ میرے والد (ابراہیم) تھے اور وہ مجھے یہ حکم دے گئے ہیں کہ میں تجھے طلاق دے دوں۔پس تو اپنے والدین کے پاس چلی جا۔پس آپ نے اسے طلاق دے دی اور بنو جرہم کی اور ایک عورت سے شادی کر لی۔۲۔قرآن مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَرَكَنُوا إِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ (هود: ۱۱۴) کہ ظالم لوگوں کے ساتھ تعلقات نہ رکھو ورنہ تم کو بھی عذاب پہنچ جائے گا۔پس حضرت مسیح موعود نے اگر اپنے بیٹے کو انبیاء گزشتہ کی سنت پر عمل کر کے ان لوگوں سے قطع تعلق کرنے کی ہدایت کی جو خدا اور اس کے رسول کے دشمن اور دہریہ تھے تو اپنے فرض کو ادا کیا۔- حضرت مسیح موعود کو خصوصاً اس معاملہ میں یہ الہام ہوا تھا کہ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَطَعُوا تَعَلَّقَهُمْ مِنْهُمْ وَ بَعْدُوا مِنْ مَجَالِسِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنَ الْمَرْحُومِينَ۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۶۹-۵۷۰ ) کہ سوائے ان لوگوں کے جوایمان لائے اور نیک کام کئے اور ان سے قطع تعلق کیا اور ان کی مجالس سے دور رہے۔پس ان پر رحم کیا جائے گا ( باقی ان سب پر عذاب نازل ہوگا۔پس حضرت مسیح موعود کو وَقَطَعُوا تَعَلَّقَهُمْ مِنْهُمْ پرعمل کرنا چاہتے تھے۔