مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 576 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 576

576 مندرجہ بالا الفاظ اگر کسی عام آدمی نے لکھے ہوں تو کوئی اہم بات نہ ہو مگر سلطان محمد جس کے متعلق حضرت مسیح موعود نے موت اور اس کی بیوہ کے اپنے نکاح میں آنے کی پیشگوئی کی تھی اور اپنی متعدد کتب واشتہارات میں اس کا ذکر بھی فرمایا تھا، اس کو تو حضرت مسیح موعود سے طبعاً انتہائی دشمنی اور عناد ہونا چاہیے تھا۔علاوہ ازیں حضرت اقدس بار بار تحریر فرما رہے تھے کہ سلطان محمد نے تو بہ کی ہے اور وہ خود تو اس امر کو جانتا تھا کہ اس نے توبہ کی ہے یا نہیں ؟ اگر فی الواقعہ اس نے تو یہ نہ کی تھی تو وہ جانتا تھا کہ حضرت صاحب نعوذ باللہ سچ نہیں فرمار ہے تو ایسے شخص کے قلم سے یہ نکلنا کہ میں جناب مرزا جی مرحوم کو نیک بزرگ“ وغیرہ سمجھتا ہوں ،اگر معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟ ۳۔تیسرا ثبوت سلطان محمد کی تو بہ کرنے کا اس کا اپنا بیان ہے۔”میرے خسر جناب مرزا احمد بیگ صاحب واقعہ میں عین پیشگوئی کے مطابق فوت ہوئے ہیں مگر خدا تعالی غفور رحیم بھی ہے، اپنے دوسرے بندوں کی بھی سنتا اور رحم کرتا ہے۔۔۔میں ایمان سے کہتا ہوں کہ یہ نکاح والی پیشگوئی میرے لئے کسی قسم کے بھی شک وشبہ کا باعث نہیں ہوئی۔۔۔باقی رہی بیعت کی بات، میں قسمیہ کہتا ہوں کہ جو ایمان اور اعتقاد مجھے حضرت مرزا صاحب پر ہے میرا خیال ہے کہ آپ کو بھی جو بیعت کر چکے ہیں اتنا نہیں ہوگا۔باقی میرے دل کی حالت کا آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے وقت آریوں نے لیکھرام کی وجہ سے اور عیسائیوں نے آتھم کی وجہ سے مجھے لاکھ لاکھ روپیہ دینا چاہا، تا میں کسی طرح مرزا صاحب پر نالش کروں۔اگر وہ روپیہ میں لیتا تو امیر کبیر بن سکتا تھا مگر وہی ایمان اور اعتقاد تھا جس نے مجھے اس فعل سے روکا۔(الفضل 9/13 جون 1921ء) ۴۔چوتھا ثبوت سلطان محمد صاحب کی تو بہ کا وہ تحریری بیان ہے جو ان کے صاحبزادہ برادرم محمد الحق بیگ صاحب نے اخبار الفضل میں شائع کرایا:۔بسم اللہ الرحمن الرحیم احباب کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته! پیشتر اس کے کہ میں اپنا اصل مدعا ظاہر کروں، یہ عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ واللہ میں کسی لالچ یا د نیوی غرض یا کسی دباؤ کے ماتحت جماعت احمدیہ میں داخل نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ماتحت ایک لمبے عرصہ کی تحقیق حق کے بعد اس بات پر ایمان لایا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب اپنے ہر دعویٰ میں صادق اور مامور من اللہ ہیں۔اور اپنے قول و فعل میں ایسے صادق ثابت ہوئے ہیں کہ کسی حق شناس کو