مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 535
535 پکڑے یعنی ہمارے ذکر میں مغلوب ہو اور اس کا کسب اس کے ذکر سے فنا ہو اور ہمارا ذکر اس کے ذکر پر غالب ہو جائے اور آدمیت کی نسبت اس کے ذکر سے قطع ہو جائے۔تب اس کا ذکر ہمارا ذکر ہوگا۔حتی کہ حالت غلبہ میں اس صفت پر ہو جائے جو کہ ابو یزید نے کہا۔سُبْحَانِى مَا أَعْظَمُ شَأْنِی اور جس نے ان کی کلام کی تاک پر کہا وہ کہنے والا ہوتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الْحَقُّ يَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمر یعنی حق عمر کی زبان سے گویا ہے۔اس کی اصلیت ایسی ہوتی ہے کہ حق کا قہر آدمیت پر اپنا غلبہ ظاہر کرتا ہے۔اس کو اس اس کی ہستی سے نکال دیتا ہے۔یہاں تک کہ اس کے کلام استحالہ سے سب کلام حق ہوتی ہے۔(کشف الحجاب مترجم اردو صفحہ ۲۸۷) ۴۱۔انگریزی الہامات کی زبان پر اعتراض مکتوبات جلد اصفحہ ۶۸ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام بایں الفاظ میں شائع ہوا ہے۔"You have to go Amritsar" (1) ( یو بیوٹو گوامرتسر ) یعنی تمہیں امرتسر جانا ہوگا۔اس پر اعتراض کیا گیا کہ لفظ (go) اور امرتسر کے درمیان لفظ ٹو (to) چاہیے تھا۔یعنی عبارت اسی طرح ہونی چاہیے تھی۔"You have to go to Amritsar" اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ لفظ to کا اس الہام میں رہ جانا محض سہو کتابت کا نتیجہ ہے اصل الہام سے مفقود نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود اسی جگہ تحریر فرماتے ہیں:۔فقرات کی تقدیم تاخیر کی صحت بھی معلوم نہیں اور بعض الہامات میں فقرات کا تقدم تا خر بھی ہو جاتا ہے۔اس کو غور سے دیکھ لینا چاہیے۔( مکتوبات جلد اصفحه ۶۸ و تذکر صفه ۹۲ ایڈیشن ۲۰۰۴ء) پھر فرماتے ہیں: چونکہ یہ غیر زبان میں الہام ہے اور الہام الہی میں ایک سُرعت ہوتی ہے اس لئے ممکن ہے کہ بعض الفاظ کے ادا کرنے میں کچھ فرق ہو۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۱۷ حاشیہ) اس امر کا ثبوت کہ لفظ "go" کے بعد "to" کارہ جانا محض سہو کتابت سے ہے یہ ہے کہ اس الہام سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس الہام سے بالکل مشابہ ایک اور الہام ہو چکا ہے جس میں لفظ to کو go کے بعد استعمال کیا گیا ہے۔وہ الہام براہین احمدیہ حصہ چہارم۔