مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 481
481 طریق سے ان پر اتمام حجت ہو چکی تو آپ نے ان کو آخری طریق فیصلہ ( مباہلہ ) کی طرف بلایا اور تحریر فرمایا:۔سواب اٹھو اور مباہلہ کے لئے تیار ہو جاؤ۔تم سن چکے ہو کہ میرا دعویٰ دو باتوں پر مبنی تھا۔اول نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ پر۔دوسرے الہامات الہیہ پر۔سو تم نے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کو قبول نہ کیا اور خدا کی کلام کو یوں ٹال دیا جیسا کہ کوئی تنکا تو ڑ کر پھینک دے۔اب میرے بناء دعوئی کا دوسراشق باقی رہا۔سو میں اس ذات قادر غیور کی آپ کو قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو کوئی ایماندار رد نہیں کر سکتا کہ اب اس دوسری بناء کے تصفیہ کیلئے مجھ سے مباہلہ کرلو۔“ ( انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۵) اور یوں ہوگا کہ تاریخ اور مقام مباہلہ کے مقرر ہونے کے بعد میں ان تمام الہامات کے پرچہ کو جو لکھ چکا ہوں اپنے ہاتھ میں لے کر میدان مباہلہ میں حاضر ہوں گا اور دعا کروں گا کہ یا الہی اگر یہ الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں میرا ہی افترا ہے اور تو جانتا ہے کہ میں نے ان کو اپنی طرف سے بنالیا ہے یا اگر یہ شیطانی وساوس ہیں اور تیرے الہام نہیں تو آج کی تاریخ سے ایک برس گزرنے سے پہلے مجھے وفات دے۔یا کسی ایسے عذاب میں مبتلا کر جو موت سے بدتر ہو اور اس سے رہائی عطا نہ کر جب تک کہ موت آ جائے۔تا میری ذلت ظاہر ہوا اور لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے سبب سے تیرے بندے فتنہ اور ضلالت میں پڑیں۔اور ایسے مفتری کا مرنا ہی بہتر ہے۔لیکن اے خدائے علیم وخبیر اگر تو جانتا ہے کہ یہ تمام الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں تیرے ہی الہام ہیں۔اور تیرے منہ کی باتیں ہیں۔تو ان مخالفوں کو جو اس وقت حاضر ہیں ایک سال کے عرصہ تک نہایت سخت دکھ کی مار میں مبتلا کر کسی کو اندھا کر دے اور کسی کو مجزوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یا سگ دیوانہ کا شکار بنا۔اور کسی کے مال پر آفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر۔اور جب میں یہ دعا کر چکوں تو دونوں فریق کہیں کہ آمین۔ایسا ہی فریق ثانی کی جماعت میں سے ہر یک شخص جو مباہلہ کیلئے حاضر ہو جناب الہی میں یہ دعا کرے اور یہ دعا فریق ثانی کر چکے تو دونوں فریق کہیں ”آمین“۔اس مباہلہ کے بعد اگر میں ایک سال کے اندر مر گیا۔یا کسی ایسے عذاب میں مبتلا ہو گیا جس میں جانبری کے آثار نہ پائے جائیں۔تو لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں گے۔اور میں ہمیشہ کی لعنت کے ساتھ ذکر کیا جاؤنگا۔لیکن اگر خدا نے ایک سال تک مجھے موت اور آفات بدنی سے بچا لیا اور میرے مخالفوں پر قہر اور غضب الہی کے آثار ظاہر ہو گئے اور ہر ایک ان میں سے کسی نہ کسی بلا میں