مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 406 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 406

406 نبی نہ آئے گا۔چنانچہ ابن حبان اور ابن عسا کرنے اس کو روایت کیا ہے کہ اس نے کہا لَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ غَيْرُكَ کہ اے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اب آپ کے سوا کوئی نبیوں میں سے باقی نہیں ہے۔(دیکھو رسالہ حجتہ اللہ علمی صفحہ ۴۶۰ بحوالہ رسالہ ختم نبوت مصنفہ النبی الخیر مولوی محمد بشیر کوٹلی لوہاراں صفحہ ۱۲۶ ۲۷) اللعلم الجواب:۔اس روایت کا جواب یہی ہے کہ اس کا کوئی جواب نہیں فی الواقعہ گدھے کا یہی خیال ہے کہ نبوت بند ہو گئی ، لیکن تمہا را بیان کردہ گدھا تو ساتھ ہی ساتھ وفات مسیح کا بھی اعلان کر رہا ہے کیونکہ کہتا ہے کہ میری خواہش تھی کہ مجھ پر کوئی نبی سواری کرے۔اب آپ کے سوا کوئی نبی نہیں رہ گیا اور میری نسل میں سے میرے سوا کوئی گدھا باقی نہیں اگر تمہارے نزدیک گدھے کا یہی مذہب درست ہے تو وفات مسیح کا بھی اقرار کرو۔تمہاری اس مضحکہ خیز روایت کے پیش نظر وہ کون سے گدھے پر سواری کریں گے؟ تحقیقی جواب:۔یہ روایت محض بے اصل اور بے سند ہے اور اس روایت کو پیش کرنا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں حد درجہ گستاخی کے مترادف ہے۔گیارھویں حدیث :۔حدیث میں ہے "إِنَّ الرَّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبي 666 (ترمذى كتاب الرؤيا باب ذهبت النبوة وبقيت المبشرات ، مسند احمد مسند المكثرين من الصحابه مسند انس بن مالک فتوحات مکیہ از محی الدین ابن عربی جلد ۲ صفحه ۳) جواب ان۔یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کے چار راوی (۱) حسن بن محمد الزعفرانی ابوالعلی بغدادی (۲) عفان بن مسلم البصری۔(۳) عبدالواحد بن زیاد اور (۴) المختار بن فلفل المخذ ومی ضعیف ہیں۔گویا سوائے حضرت انس کے شروع سے لے کر آخر تک تمام سلسلہ اسناد ضعیف راویوں پر مشتمل ہے حسن بن الزعفرانی کے متعلق علامہ ذہبی لکھتے ہیں ضَعْفَهُ ابْنُ قَانِعِ وَ قَالَ الدَّارُ قُطْنِيُّ قَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ “ ( میزان الاعتدال جلد اصفحه ۲۴۱ مطبوعہ حیدر آباد و مطبوعہ انوار محمدی جلد اصفحه ۲۱۲) یعنی ابن قانع کہتے ہیں کہ ضعیف تھا۔دار قطنی کہتے ہیں کہ محدثین کے نزدیک اس راوی کی صحت کے بارے میں کلام ہے۔ابن عدی کہتے ہیں کہ اس راوی نے ایسی احادیث کی روایات کی ہیں جن کا میں نے انکار کیا۔اسی طرح دوسرے راوی عفان بن مسلم البصری کے متعلق ابو خیثمہ کہتے ہیں۔انگرنَا عَفَّانَ (ميزان الاعتدال زیر لفت اعفان بن مسلم البصری ) کہ ہم اس راوی کو قابل قبول نہیں سمجھتے۔