مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 355
355 پھر لکھا ہے فَهُوَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَإِنْ كَانَ خَلِيفَةً فِي الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ فَهُوَ رَسُولٌ وَ نَبِيٌّ كَرِيمٌ عَلَى حَالِهِ» (حج الکرامه از نواب صدیق حسن خان صفحه ۴۲۶ مطبع شاہجہانی واقع بلدہ بھوپالی) کہ وہ باوجود اس بات کے کہ وہ امت محمدیہ کے ایک خلیفہ ہوں گے پھر بھی بدستور رسول اور نبی رہیں گے۔پس یہ کہنا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بعد از نزول نبی نہ ہوں گے باطل ہے۔۱۰ نواب نور الحسن خان ابن نواب صدیق حسن خاں صاحب لکھتے ہیں۔حديث لَا وَحْيَ بَعْدَ مَوْتِی بے اصل ہے ہاں لا نَبِيَّ بَعْدِی آیا ہے اس کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ نہ لاوے گا۔“ اقتراب الساعۃ صفحہ ۶۲ اطبع في مطبعة مفید عام الکائنہ فی آگرہ مطبوعه ۱۳۰۱ھ ) مولا نا روم اور ختم نبوت مثنوی مولانا روم کے متعلق مولانا جامی کہتے ہیں کہ مثنوی مولوی معنوی هست قرآن در زبان پهلوی (۱ نفحات الانس“ از عبد الرحمن بن احمد الجامی در ذکر الشیخ مولانا جلال الدین رومی۔۲۔الہام منظوم دفتر اول ترجمه مثنوی مولانا روم از شیخ عاشق حسین سیماب صدیقی الوارثی اکبر آبادی شائع کرده فیروز دین مقدمه صفحه ۸) ا۔مثنوی مولانا روم کے مندرجہ ذیل اشعار مسئلہ ختم نبوت کی حقیقت واضح کرتے ہیں:۔(( مَعْنِي نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ ـ این شناس این است را هر دراهم که نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِد “ کے معنی سمجھنے کی کوشش کرو کیونکہ یہ رسالت کے راستہ میں ایک مشکل ہے۔(ب) تا ز راه خاتم پیغمبراں بو که برخیز و زلب ختم گراں یعنی تا کہ ممکن ہے کہ لب ہلانے سے خاتم النبیین کے راستے سے ایک بھاری ختم اٹھ جائے۔(ج) ختمہائے کا بنیاء بگذاشتند آن بدین احمدی بر داشتند وہ بہت سے ختم جو پہلے نبی چھوڑ گئے تھے وہ سب دین احمدی میں اٹھا دیئے گئے۔( د ) قفل بائے نا کشوده مانده بود از کف انا فتحنا بر کشور یعنی بہت سے تالے بند پڑے ہوئے تھے مگر آنحضرت صلعم نے انا فتحنا کے ہاتھ سے سب کھول دیئے۔(ھ) او شفیع است ایس جہان و آں جہاں این جہاں دردین و آنجا در جناں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جہانوں میں شفیع ہیں اس جہان میں دین کے اور اگلے جہان میں