مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 322
322 وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَك رَفِيقًا (النساء:۷۰) جو اطاعت کریں گے اللہ کی اور اس کے رسول (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پس وہ ان میں شامل ہو جائیں گے جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی نبی ، صدیق ، شہید اور صالح اور یہ ان کے اچھے ساتھی ہوں گے۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے امت محمدیہ میں طریق حصول نعمت اور تحصیل نعمت کو بیان کیا ہے۔آیت میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے ایک انسان صالحیت کے مقام سے ترقی کر کے نبوت کے مقام تک پہنچتا ہے۔دوسری جگہ جہاں انبیاء سابق کی اتباع کا ذکر کیا گیا ہے وہاں اس کے نتیجہ میں انعام نبوت نہیں دیا گیا۔جیسا کہ فرمایا: - وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِةٍ أو لَيْكَ هُمُ الصِّدِّيقُوْنَ وَالشُّهَدَاءُ (الحديد:٢٠) یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ تعالیٰ اور باقی تمام انبیاء پر وہ صدیق اور شہید ہوئے۔یا در ہے کہ یہاں آمَنُوا صیغہ ماضی اور رُسُلِهِ صیغہ جمع ہے۔بخلاف مَنْ يُطِعِ اللَّهَ والی آیت کے کہ اس میں يُطع مضارع ہے اور الرسول خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے۔گویا پہلے انبیاء کی اطاعت زیادہ سے زیادہ کسی انسان کوصدیقیت کے مقام تک پہنچا سکتی تھی۔مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ایک انسان کو مقام نبوت پر بھی فائز کر سکتی ہے۔اگر کہا جائے کہ مَنْ يُطِعِ الله والی آیت میں لفظ مع ہے۔مِن نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں گے وہ نبیوں کے ساتھ ہوں گے۔خود نبی نہ ہوں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ا۔اگر تمہارے معنے تسلیم کر لئے جائیں تو ساری آیت کا ترجمہ یہ بنے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے نبیوں کے ساتھ ہوں گے مگر خود نبی نہ ہوں گے۔وہ صدیقوں کے ساتھ ہوں گے مگر خود صدیق نہ ہوں گے وہ شہیدوں کے ساتھ ہوں گے مگر خود شہید نہ ہوں گے وہ صالحین کے ساتھ ہوں گے مگر خود صالح نہ ہوں گے۔تو گویا نہ حضرت ابو بکر صدیق ہوئے ، نہ عمر ، عثمان، علی و حضرت حسین شہید ہوئے اور نہ امت محمدیہ میں کوئی نیک آدمی ہوا۔تو پھر یہ امت خیر امت نہیں بلکہ شرامت ہوئی۔لہذا اس آیت میں مع بمعنی ساتھ نہیں ہوسکتا بلکہ مع بمعنی من ہے۔۲۔جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوْا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَ