مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 309
309 بعض مسلمانوں کا یہ خیال ہے کہ مسیح و مہدی دو اشخاص ہیں نا درست ہے۔اوّل:۔اس لئے کہ آنحضرت نے جہاں آخری زمانے کے مصلح کا ذکر فرمایا ہے وہاں پر صرف مسیح کا نام آتا ہے اور مہدی کا ذکر تک نہیں فرماتے ہیں:۔كَيْفَ تَهْلِكُ أُمَّةٌ اَنَا اَوَّلُهَا وَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اخِرُهَا ـ (مشكوة كتاب المناقب باب ثواب هذه الامة )(اكمال الدین صفحه ۵۷ اشیعہ کتاب ) (كنز العمال كتاب القيامة باب نزول عيسى من قسم الاقوال ) ( حجج الكرامه از نواب صدیق حسن خان صفحه ۴۲۳ ) کہ وہ امت کیسے ہلاک ہو سکتی ہے جس کا اول میں اور آخر مسیح ہے۔اگر حضرت امام مہدی کوئی علیحدہ وجود ہوتے تو ان کا بھی ذکر فرماتے۔پس معلوم ہوا کہ دونوں ایک وجود ہیں۔دوم:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کو مہدی بھی قرار دیا ہے جیسے فرمایا۔يُوشَکُ مَنْ عَاشَ مِنْكُمْ أَنْ يُلْقَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ إِمَامًا مَهْدِيَّا وَ حَكَمًا عَدَلًا (مسند امام احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۴۱۱ الطبعۃ الثانی ۱۹۷۸ء مکتبہ اسلامی بیروت) که عیسی بن مریم جو امت کے موعود ہیں وہ امام مہدی بھی ہوں گے اور حکم اور عادل بھی ہوں گے۔مہدی کی پیشگوئی کے لئے جو لفظ رکھے ہیں وہی یہاں رکھ کر بتا دیا کہ ہماری مراد وہی مہدی ہے۔سوم۔محدثین نے باب مہدی کی سب احادیث کو مجروح قرار دیا ہے ملاحظہ ہو مقدمہ ابن خلدون لیکن اس ضمن میں یہ حدیث صحیح ہے۔وَلَا الْمَهْدِيُّ إِلَّا عِيسَى بُنُ مَرْيَمَ (سنن ابن ماجه كتاب الفتن باب شدة الزمان ) کیونکہ اس کا راوی محمد بن خالد الجندی معتبر ہے کیونکہ اس سے امام شافعی جیسے نقاد نے روایت کی ہے اور ابن معین نے اس راوی کو ثقہ قرار دیا ہے۔(تهذیب التهذیب ذکر محمد بن خالد الجندی) اور پھر بیٹی بن معین کوئی معمولی انسان نہیں بلکہ هُوَ اِمَامُ الْجَرْح وَالتَّعْدِيلِ ہے اور یہاں تک کہا گیا ہے کہ كُلُّ حَدِيثٍ لَا يَعْرِفُهُ ابْنُ مُعِينٍ فَلَيْسَ هُوَ بِحَدِيثٍ (تهذیب التهذیب از حافظ ابن حجر عسقلانی حرف الياء زیر لفظ یحیی بن معین ) کہ جس حدیث کو ابن معین نہیں جانتا وہ حدیث ہی نہیں۔پس ایسا شخص جس راوی کو ثقہ قراردیتا ہو اس کی روایت میں کیونکر اشتباہ ہو سکتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ مسیح ہی مہدی ہے اور کوئی مہدی نہیں۔چهارم: مسیح موعود اور مہدی معہود کے حلیہ، کام اور حالت نزول کے ایک ہونے سے ظاہر ہے کہ دراصل ایک ہی وجود ہے لیکن مختلف حیثیتوں سے جداجداناموں سے پکارا گیا ہے۔