مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 277
277 غیر احمدی:۔اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس سے مسند احمد جلدا صفحہ ۳۱۷ المكتب الاسلامی بیروت و در منشور زیر آیت وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ۔۔۔۔۔وفتح البیان زیر آیت وَإِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ وابن كثير وانْ مَنْ أَهْلِ الكتب الا ليُؤْمِنَنَّ بِہ میں مروی ہے کہ اس آیت میں نزول مسیح قبل از قیامت مراد ہے۔ایسا ہی ابن جریر جلد ۵ صفحہ ۴۸ میں ہے۔( محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۵۶۶-۵۶۷ مطبع ۱۹۵۰ء) جواب:- در منثور اور فتح البیان میں تو تمہاری پیش کردہ روایت کی سند درج نہیں ہے۔البتہ ابن کثیر اور ابن جریر میں جس قدر سندات سے یہ تفسیر مروی ہے وہ سب کی سب موضوع ہیں۔ابن کثیر میں یہ روایت دو طریقوں سے مروی ہے اور دونوں کا راوی عاصم بن ابی النجو د ہے جو ضعیف ہے۔اس کے متعلق لکھا ہے: ثَبَتَ فِي الْقِرَأَةِ وَ هُوَ فِى الْحَدِيثِ دُونَ الثَّبُتِ۔۔۔۔قَالَ يَحْيَ القَطَّانُ مَا وَجَدْتُ رَجُلًا اِسْمُهُ عَاصِمٌ إِلَّا وَجَدْتُهُ رَوى الْحِفْظَ وَ قَالَ النَّسَائِي لَيْسَ بِحَافِظِ وَ قَالَ الدَّارُ قُطْنِي فِي حِفْظِ عَاصِمٍ شَيْءٍ وَ قَالَ ابْنُ خَرَاشٍ فِي حَدِيثِهِ نَكَرَةٌ وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ لَيْسَ مَحَلُّهُ أَنْ يُقَالَ ثِقَةٌ (ميزان الاعتدال ذكر عاصم بن ابی النجود مصنفه علامه ذهبی شمس ) که بهہ راوی قرآن مجید اچھا پڑھتا تھا لیکن حدیث میں مضبوط راوی نہ تھا۔بیٹی کہتے ہیں کہ عاصم نام کا میں نے کوئی راوی اچھے حافظہ والا نہیں دیکھا۔امام نسائی نے بھی اس راوی کے متعلق کہا ہے کہ یہ اچھارا وی نہ تھا۔ابن خراش نے کہا ہے کہ یہ منکرۃ الحدیث تھا اور ابو حاتم نے کہا ہے کہ ثقہ نہ تھا۔ابن جریر کے طریقوں میں سے پہلے تین میں تو یہی عاصم بن ابی النجو د راوی ہے جو منکر الحدیث اور غیر ثقہ ہے۔علاوہ ازیں پہلے طریقہ میں ابن عاصم کے علاوہ ایک راوی ابو یکی مصدع بھی ہے جس کے متعلق لکھا ہے کہ وہ غیر ثقہ تھا نیز لکھا ہے کہ قَدْ ذَكَرَهُ الْجَوْزُ جَانِى فِى الضُّعَفَاءِ۔۔۔۔وَ قَالَ ابْنُ حَبَّانِ فِي الضُّعَفَاءِ كَانَ يُخَالِفُ الْإِثْبَاتَ فِى الرِّوَايَاتِ وَ يَنْفَرِدُ بِالْمَنَاكِيرِ۔(تهذيب التهذيب ذكر مصدع ابوتيجى الا عرج المعرقب ) کہ یہ راوی ضعیف اور نا قابل اعتبار ہے۔ابن جریر کے دوسرے طریقہ میں عاصم کے علاوہ ایک راوری غالب بن فائد ہے۔اس کے متعلق علامہ ذہبی لکھتے ہیں: قَالَ الْأَزْدِي يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ وَقَالَ الْعُقَيْلِيُّ يُخَالَفُ فِي حَدِيثِهِ (ميزان الاعتدال ذكر غالب بن فائده ) کہ اس راوی کے ثقہ ہونے میں محدثین کو کلام ہے اور عقیلی نے کہا کہ اس کی حدیث کو قبول نہیں کیا جاتا۔