مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 253 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 253

253 ہیں ” مرے ہوئے اور میت کی جمع میتُونَ ہے۔دیکھو لغت کی کتاب المنجد زیرلفظ موت۔اور آیت بھی اس کی مؤید ہے کیونکہ اس میں اَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاء (النحل : ۲۲) یعنی ایسے اموات جو زندہ نہیں ہیں۔پس اموات کو میت کی جمع قرار دینا زبان اور قرآن دونوں سے نا واقفیت کی دلیل ہے۔اگر ملائکہ اور جنوں کا اعتراض کرو تو یا دور ہے کہ وہ عالم امر سے ہیں اور يُخْلَقُونَ (النحل : ۲۱) میں عالم خلق کا بیان ہے اس لئے ان کا یہاں ذکر نہیں۔ہاں حضرت عیسی کا ذکر ہے۔ملائکہ اور جنوں کے نہ مرنے کا کیا ثبوت ہے؟ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (العنکبوت: ۵۸) کے کلیہ سے وہ کیونکر باہر رہ سکتے ہیں۔چھٹی دلیل :۔آیت قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ (الاعراف: ۲۲) ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو فرمایا کہ تم اسی زمین میں ہی زندگی بسر کرو گے اور اسی میں مرو گے اور پھر اسی سے اٹھائے جاؤ گے۔استدلال :۔یہ ایک عام قانونِ الہی ہر فرد بشر پر حاوی ہے تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ فِيهَا تَخيَونَ کے صریح خلاف حضرت عیسی آسمان پر زندہ موجود ہوں۔اس آیت میں تَحْيَونَ ( فعل ) پر فيها ( ظرف ) مقدم ہے۔پس از روئے قواعد نحو اس میں حصر ہے جس سے استثناء ممکن نہیں۔نوٹ:۔اس آیت کی تائید میں یہ آیتیں بھی ہیں:۔۔الَمُ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَانَّا أَحْيَاء وأَمْوَاتًا (المرسلات : ۲۷،۲۶) کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کو سمیٹنے والی نہیں بنایا ؟ ٢ - وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلى حِينِ (البقرۃ: ۳۷) اور تمہارے لئے زمین میں ٹھکانا ہے اور فائدہ اٹھانا ایک مدت تک۔ساتویں دلیل: - وَأَوْطَنِى بِالصَّلوةِ وَالزَّكُوةِ مَا دُمْتُ حَيًّا (مريم: ۳۲) ترجمہ:۔(حضرت عیسی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مجھ کو تاکیدی حکم دیا ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں نماز پڑھتا اور زکوۃ ادا کرتا رہوں۔استدلال : - حضرت عیسی کا زکوۃ دینا ان کی تمام زندگی بھر فرض قرار دیا گیا ہے اس سے لازم آتا ہے کہ ان کے پاس زکوۃ دینے کے لائق روپیہ بھی ہوا اور مستحقین زکوۃ بھی زندہ رہیں۔پس آسمان میں اگر وہ زندہ فرض کیسے جاویں تو وہاں روپیہ اور زکوۃ لینے والوں کا ایک گروہ بھی ان کے ہمراہ ہونا ضروری ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں۔اگر کہو کہ حضرت عیسی کے پاس وہاں مال نہیں اس لیے ان پر زکوۃ فرض نہیں۔تو