مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 250
250 (وَالثَّانِي أَنَّ الْحَاجَةَ إِلَى الرَّسُولِ لِتَبْلِيغِ الدِّينِ وَ بَعْدَ ذَلِكَ فَلَا حَاجَةَ إِلَيْهِ فَلَمْ يَلْزِمُ مِنْ قَتْلِهِ فَسَادُ الدِّينِ ( تفسير كبير رازى زير آيت ما كان لنفس ان تموت الا باذن الله۔۔۔۔كم خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ آنحضرت کے قتل ہو جانے سے آپ کے دین میں کوئی کمزوری واجب نہیں آتی۔اوّل اس وجہ سے کہ تمام گزشتہ انبیاء کی موت اور قتل پر قیاس کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے۔دوسرے اس وجہ سے کہ نبی کی بعثت کی غرض تو تبلیغ دین ہوتی ہے۔پس جب وہ تبلیغ دین کا فریضہ ادا کر چکے تو پھر اس کو زندہ رکھنے کی کوئی حاجت نہیں رہتی۔۷۔حضرت داتا گنج بخش صاحب اس آیت کا ترجمہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں۔یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم محض رسول خدا ہیں۔ان کے پہلے بھی رسول راہ رو عالم آخرت ہوئے۔کیا اگر حضرت انتقال فرما گئے یا قتل کئے گئے تو تم پیچھے قدم ہٹ جاؤ گے یعنی الٹی چال چلو گے۔“ ( کشف المحجوب مترجم اردو صفحہ ۳۷۔باب ۳ تصوف کے بیان میں فارسی عشرت پبلشنگ اڈس ہسپتال روڈ انارکلی لاہور) تفسیر مدارک بر حاشیه خازن زیر آیت وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُول۔۔۔خَلَتْ مَضَتْ فَسَيَخْلُوا۔۹ تفسیر کشاف زیر آیت وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُول۔۔۔۔۔فَسَيَخْلُوا كَمَا خَلَوْا۔نبی کریم کا خلا ویسے ہی ہوگا جیسے پہلوں کا ہو چکا ہے۔۱۰۔تفسیر قنوی علی البیضاوی صفر ۱۲۴۔جلد ۳_ فَسَيَخْلُوُا كَمَا خَلَوُا بِالْمَوْتِ أوِ الْقَتْلِ۔۔۔۔۔إِنَّهُمُ اعْتَقَدُوا إِنَّهُ رَسُولٌ كَسَائِرِ الرُّسُلِ فِي إِنَّهُ يَخْلُوا كَمَا خَلَوْا رُدَّ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ لَيْسَ إِلَّا رَسُولًا كَسَائِرِ الرُّسُلِ فَسَيَخْلُوُا كَمَا خَلَوْا یعنی لوگوں نے اعتقاد کیا کہ آنحضرت فوت نہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ باقی رسول جب فوت ہو گئے تو یہ کیوں نہ فوت ہوں گے۔اس آیت سے وفات مسیح پر صحابہ کرام کا اجماع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات صدمہ آفات نے صحابہ کی کمر ہمت کو توڑ دیا حتی کہ حضرت عمر نے کہنا شروع کیا کہ جو کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوفوت شدہ کہے گا اس کی گردن اڑ دوں گا۔چنانچہ بخاری کتاب النبی الی کسری و قیصر باب مرض النبی و وفاته میں مندرجہ ذیل حدیث ہے:۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ وَ عُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَقَالَ إِجْلِسُ يَا