مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 194
194 جواب دے دیا وہ اب اس فتویٰ کے مطابق حضرت ابو بکر و عمر کو مومن ہی سمجھے گا۔اس کے چلے جانے کے بعد دوسرے دن اس قول کے الفاظ کی ظاہری مفہوم کے خلاف غلط تاویل کرنا بالکل غیر معقول ہے۔اس شخص کی گمراہی (بقول شما) کا باعث تو حضرت امام جعفر ہی کا یہ قول ہوگا۔امام جعفر نے اگر کوئی تشریح اپنے الفاظ کی کرنی ہوتی تو اس شخص کے سامنے ہی کرنی چاہیے تھی۔۱۴۔علامہ کا شانی اپنی تفسیر خلاصۃ المنهج تفسیر سورۃ الفتح آیت 19 میں لکھتے ہیں: آنحضرت فرمود بدوزخ نه رود یک کس ازاں مومناں کہ اوزیر شجر بیعت کردند و این را بیعت الرضوان نام نہادہ اند - بہت آنکه حق تعالی در حق ایشان فرمود که " لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (الفتح : ۱۹) کہ آنحضرت نے فرمایا کہ درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے سب کے سب جنتی ہیں کیونکہ خدا نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ کا ان کو خطاب دیا ہے۔۱۵۔بکشف الغمہ فی معرفۃ الائمہ بیعت رضوان کی شرح میں روایت ہے۔از جابر بن عبد اللہ روایت است که ما در آن روز هزار و چهارصد ( یعنی چودہ سو ) کس بودیم در آن روز من از آنحضرت صلحم شنیدم که آنحضرت خطاب بحاضران نمود و فرمود که شما بهترین اہل روئے زمین اند و همه در آن روز بیعت کردیم و کسے از اہل بیعت نکس و نمود مگر اجد بن قیس کہ آں منافق بیعت خود را شکست گویا بیعت رضوان کرنے والے چودہ سو مسلمان تھے اور سوائے اجد بن قیس کے سب کے سب جنتی ہیں مگر شیعہ تو صرف پختن یا ساڑھے چھ تن کو جنتی مانتے ہیں۔۱۶۔حضرت عثمان اس بیعت کے وقت موجود نہ تھے بلکہ بطور سفیر مکہ میں گئے ہوئے تھے ان کے متعلق لکھا ہے۔فَلَمَّا انْطَلَقَ عُثْمَانُ وَبَايَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَالِهِ الْمُسْلِمِينَ وَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلْعَمُ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأخْرى لِعُثْمَانَ وَقَالَ الْمُسْلِمُونَ طُوبَى لِعُثْمَانَ قَدْ طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلْعَمُ مَا كَانَ لِيَفْعَلَ فَلَمَّا جَاءَ عُثْمَانُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَالِهِ أَطَفْتَ بِالْبَيْتِ فَقَالَ مَا كُنتُ لاطُوفَ بِالْبَيْتِ وَ رَسُولُ اللهِ صَلَعَمُ لَمْ يَطْفُ بِهِ ( فروع کافی جلد ۳ کتاب الروضه صفحه۱۱۵)۔حضرت عثمان چلے گئے تو آنحضرت نے مسلمانوں سے بیعت لی۔اور آنحضرت نے اپنا ایک ہاتھ اپنے دوسرے ہاتھ پر حضرت عثمان کی بیعت لینے کے لئے رکھا اور مسلمانوں نے کہا کہ عثمان بڑا خوش