مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 139
139 ہیں۔پس اگر بغیر باپ کے پیدا ہونا فضیلت ہے تو بے ماں و باپ کے پیدا ہونا تو اس سے بھی بڑھ کر درجہ فضیلت ہونا چاہیے۔پھر عیسائی صاحبان کیوں آدم کو حضرت عیسی سے افضل نہیں مانتے ؟ اسی طرح انجیل میں لکھا ہے۔”ملک صدق۔۔۔بے باپ، بے ماں، بے نسب نامہ ہے۔۔۔۔بلکہ خدا کے بیٹے کے مشابہ ٹھہرا۔“ (عبرانیوں ۱تا ۷۱۳ ) کیا عیسائی صاحبان ملک صدق کو حضرت عیسی سے افضل مانتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ بے باپ پیدا ہونا وجہ فضیلت نہیں۔لہذا اس وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت عیسی علیہ السلام کو افضل قرار دینا غلطی ہے۔جواب نمبر ۲:۔اگر بے باپ پیدا ہونا وجہ فضیلت ہے تو کیا ہم ان تمام کیڑوں مکوڑوں کو جو برسات کے دنوں میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں بے ماں اور بے باپ پیدا ہوتے ہیں تمام انسانوں سے افضل قرار دے سکتے ہیں؟ جواب نمبر ۳:۔حضرت عیسی علیہ السلام کا بے باپ ہونا کس طرح موجب فضیلت ہو سکتا ہے جبکہ ان کی ولادت سے لے کر آج تک ساڑھے انیس سو سال گزر جانے تک ان پر اور ان کی والدہ صدیقہ پر پے بہ پے کفار نا نجار نا جائز ولادت کا الزام لگاتے ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام تمام عمر اس اعتراض کا جواب دیتے رہے۔یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بریت آنذلهُ بِرُوحِ الْقُدُس (البقرة: ۲۵۲٫۸۸) کے الفاظ سے کرنی پڑی۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے متعلق کبھی کسی نے کوئی اعتراض کیا ؟ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو طعنہ زنی کا نشانہ بننا پڑا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بے باپ پیدا نہ ہونا بذات خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آپ کی فضیلت کو ثابت کرتا ہے۔جواب نمبر ۴:۔قرآن مجید کے پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو بے باپ پیدا کرنے میں کیا حکمت تھی۔قرآن مجید میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے فرمایا: إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ (البقرة: ۱۲۵) که اے ابراہیم! تجھے لوگوں کا مقتداء اور راہنما ( نبی ) بناتا ہوں۔انہوں نے عرض کیا کہ اے خدا! میری نسل میں بھی (نبوت رکھ ) تو خدا تعالیٰ نے فرمایا۔ہاں تیری نسل میں جو ظالم ہوں گے وہ اس نعمت سے محروم کر دئے جائیں گے۔دوسری جگہ فرمایا: وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ (العنکبوت : ۲۸ ) کہ ہم نے حضرت ابراہیم