مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 92 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 92

92 مغلوب ، مصلوب اور یہودی کامیاب ہوئے۔۹ استثناء ۱۸/۲۰ میں ہے۔غیر معبودوں کی پرستش کی طرف بلانے والا جھوٹا ہے۔وہ قتل کیا جاوے گا۔مسیح نے آکر خود کو خدا کہا اور مقتول ہوئے تو جھوٹے ثابت ہوئے نہ کہ خدا اور سچا خدا۔۱۰۔اگر مسیح بغیر باپ ہونے کی وجہ سے خدا ہے تو ملک صدق سالم کیوں خدا نہیں۔( عبرانیوں ۷۱۲ ) ۱۱ مرقس ۱۰/۱۸۔اے نیک استاد ! مگر مسیح کو خود نیک ہونے سے انکار ہے۔(حوالہ مذکور ) کفاره مسیحی مفہوم: اول:۔ہر انسان گنہ گار ہے۔نہ صرف بلوغت سے لے کر بلکہ پیدائشی گنہ گار ہے۔دوم :۔اس لئے کہ آدم و حوا نے گناہ کیا اور اولاد میں وراثتا آیا۔اس لئے ہر انسان گنہ گار ہے۔سوم۔صفات الہی میں چونکہ خدا عادل ہے بلا وجہ بخش نہیں سکتا۔اور وہ رحیم بھی ہے بوجہ عدل چھوڑ نہیں سکتا۔بوجہ رح اقوم ثانی کو جسم اختیار کرنا پڑا نہ معلوم خود جسم اختیار کیا باپ کے حکم سے کیونکہ سب اقنوم الوہیت میں مساوی ہیں۔خادم ) اور دوسری طرف خدا نے انسان بن کر اور مصلوب ہو کر جہان کے گناہ اٹھائے۔جو کوئی اس پر ایمان لاتا ہے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں بوجہ مسیح کی اس تکلیف کے جو اس نے صلیب پر برداشت کی۔بنیا د کفارہ : گناہ پیدائش سے ہے عملوں سے نہیں۔تمام لوگ پیدائش سے ( مرد وعورت سے پیدا ہوئے۔اس لئے ) گنہگار ہوئے۔مسیح بے گناہ (صرف عورت سے پیدا ہوا ) تھا۔اس لئے قربان ہوا اور دنیا کو گنا ہوں سے نجات دی۔تعریف کفارہ: کفارہ کے لفظی معنی ڈھکنا۔ڈھانپنا۔خدا کا ایک بیٹا ہے اور وہ ایک بیٹا ہے۔اس خدا کے بیٹے نے مریم کے پیٹ میں حلول کیا اور وہ خدا کا بیٹا انسان کے بیٹے کی شکل میں پیدا ہوا۔خدائی کا دعویدار ہوا۔یہودیوں نے پکڑ کر صلیب پر لٹکا کر جان نکال دی۔یہ تکلیف خدا کے بیٹے نے محض انسان کے گناہوں کی وجہ سے اٹھائی اور اب وہ گناہوں کا کفارہ ہو گئے۔اب کسی قسم کی سزا انسان کو نہ دی جائے گی۔ضرورت کفارہ: انسان گنہ گار ہے اور گناہ کا نتیجہ موت ہے بلکہ جہنم کی سز انگر خدا رحیم ہے۔اس کا رحم چاہتا ہے کہ انسان سزا سے بچ جاوے۔پھر وہ عادل ہے۔عدل کا تقاضا ہے کہ سزا ضرور دی