مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 87
87 تیرھویں دلیل: مسیح کو قرآن مجید میں کلمۃ اللہ کہا گیا ہے۔لہذاوہ خدا ہے۔جواب: قرآن مجید میں ہے : قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لَّكَلِمَتِ رَبِّ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (الكهف : ١١٠) پس خدا کے کلمات کی تو کوئی حد ہی نہیں۔اگر خدا کے کلمے خدا ہونے لگے تو پھر دنیا کا ذرہ ذرہ خدا بن جائے گا۔خدا تعالیٰ ایک دوسری جگہ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ اگر تمام درخت قلمیں اور سب سمندر سیاہی بن جائیں مَا نَفِدَتْ كَلِمَتُ اللهِ (لقمن : ۲۸) پھر بھی کلمات اللہ شمار نہ ہو سکیں۔چودہویں دلیل:۔انجیل میں مسیح کی نسبت وسیلہ لفظ استعمال ہوا ہے۔جس سے ثابت ہوا کہ وہ خدا ہے۔ایسا ہی نئے عہد کا درمیانی کہا گیا ہے۔جواب:- چه خوش گفت است سعدی در زلیخا الا یا ایها الساقی ادر کاساوناوِلُها انجیل میں وسیلہ" کا لفظ بمعنی معرفت استعمال ہوا ہے۔ملاحظہ ہو:۔کیونکہ اس نے ایک دن ٹھہرایا ہے جس میں وہ راستی سے دنیا کی عدالت اس آدمی کی معرفت کرے گا جسے اس نے مقرر کیا ہے۔(اعمال: ۱۷٫۳۱) اب دیکھیے بائبل میں کیا لکھا ہے:۔' تب بھی تو بہت برس تک ان کی برداشت کرتا رہا اور اپنی روح سے یعنی اپنے نبیوں کی معرفت سے انہیں سمجھاتا رہا ہے۔“ ( نحمیاہ ۹/۳۰) پس تمام انبیاء ہی خدا اور انسانوں کے درمیان وسیلہ ثابت ہوئے مسیح کی خصوصیت کیا رہی؟ نیز ملاحظہ ہو ” تو نے روح القدس کے وسیلہ سے ہمارے باپ اپنے خادم داؤد کی زبانی فرمایا۔“ ( اعمال ۴/۲۵) لغت میں بھی ہے: اَلْوَسِيلَةُ : وَالْوَسِيْلَةُ مَا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى الْغَيْرِ الْمَنْزَلَةُ عِنْدَ الْمُلُوكِ الدَّرَجَةُ۔پس وسیلہ کے معنے مقرب الہی اور صاحب درجہ ہونے کے ہیں نہ کہ خدا ہونے کے۔