مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 84
84 (۸) پیلاطوس کا تعجب کرنا کہ وہ اتنی جلدی مر گیا۔(۹) حواریوں سے ملنا اور زخم دکھانا۔(۱۰) مسیح علیہ السلام کا ملعون ٹھہرایا جانا۔(۱۱) ساری رات دعا کرنا۔(۱۲) مرہم عیسی دوا کا بننا۔( مرقس ۱۵/۴۴) ( یوحنا ۲۵ - ۲۰/۲۷) (گلتیوں ۳/۱۳) (متی ۲۶٫۳۹) (۱۳) ابھی اور بھیٹروں کو جمع کرنا۔دسویں دلیل:۔چونکہ وہ آسمان پر چلا گیا اس لئے خدا ہے۔جواب نمبر1: ایلیاہ پیغمبر رتھ سمیت آسمان پر چلا گیا۔جواب نمبر ۲: مسیح آسمان پر نہیں گیا۔(الف) کوئی آسمان پر نہیں گیا۔(ب) مسیح پہلے بھی آسمان ہی سے آیا تھا۔( یوحنا ۳۹۔۱۹/۴۰) (یوحنا ۱۰/۱۶) (۲ سلاطین ۲/۱۱) (یوحنا ۲/۱۳) (یوحنا ۶/۳۸ ۶۲ ۶/۶۳) لہذا اب بھی روحانی طور پر وہ آسمان پر ہی ہے نہ کہ جسمانی طور پر۔(ج) ”میں تمہارے لئے جگہ تیار کرنے جاتا ہوں۔“ پس جہاں یسوع کے شاگر د گئے وہاں یسوع بھی گیا۔ا۔چونکہ میچ میں عوارض انسانیہ تھے اس لئے وہ خدا نہیں۔( یوحنا ۲ ، ۱۴٫۳)۔چونکہ وہ قادر مطلق نہ تھا کیونکہ وہ کہتا ہے۔دائیں بائیں بٹھانا میرا کام نہیں۔“ ( متی ۲۰/۲۳ - مرقس ۱۰/۴۰) اور پھر صلیب پر سے کیوں نہ اترا۔حالانکہ درمیں صورت یہودی ماننے کو تیار تھے۔لہذا خدا نہ تھا۔گیارہویں دلیل:۔اور ضرور تھا کہ جو نبی کی معرفت کہا گیا تھا وہ پورا ہو کہ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہوگی اور بچہ جنے گی اور اس کا نام عمانوایل رکھیں گے۔جس کا ترجمہ ہے۔خدا ہمارے ساتھ۔“ (متی ۲۲-۱/۲۳) جواب نمبرا:۔یسعیاہ ۱۴رے کی اصل عبارت نقل کرنے میں عیسائی انجیل نویسوں نے تحریف کی ہے۔اصل الفاظ یہ ہیں :۔دیکھو ایک کنواری حاملہ ہوگی اور بچہ پیدا ہوگا اور وہ اس کا نام عمانوایل رکھے گی۔“ (یسعیاہ ۷/۱۴)