مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 856 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 856

856 اشراف وقت سے خاص تھا اور اپنے زمانہ میں قوم کا پیشوا اور خاص۔۔۔۔اور فاطمہ جو اس کی زوجہ تھی طریقت میں اس کی بڑی شان تھی جب احمد کو بایزید کی زیارت کا قصد ہوا۔فاطمہ نے بھی ان کے ساتھ اتفاق کیا۔جب بایزید کے پاس آئے تو منہ سے پردہ اٹھایا اور گستاخانہ کلام شروع کی۔احمد کو اس سے تعجب ہوا۔اور اس کے دل میں غیرت نے جوش مارا اور کہا۔اے فاطمہ! یہ کیا گستاخی ہے؟ جو آج تو نے بایزید سے کی ہے مجھے بتانی چاہیے۔فاطمہ نے کہا کہ اس سبب سے کہ تو میری طبیعت کا محرم ہے۔میں تجھ سے خواہش نفسانی کو پہنچتی ہوں اور اس سے خدا سے ملتی ہوں۔اور کہا کہ اس پر یہ دلیل ہے کہ وہ میری صحبت کی پرواہ نہیں رکھتا اور تو میرا محتاج صحبت ہے۔وہ ہمیشہ ابو یز یڈ کے ساتھ شوخی کرتی۔تا آنکہ ایک روز بایزید نے فاطمہ کا ہاتھ دیکھا کہ حنا سے رنگین ہے۔پوچھا کہ اے فاطمہ! تو نے ہاتھ پر حنا کیوں لگائی ہے؟ اس نے جوب دیا کہ اے بایزید! جب تک تو نے میرے ہاتھ اور حنا کو نہیں دیکھا تھا مجھے تجھ سے خوشی تھی۔اب کہ تیری نظر مجھ پر پڑی پھر صحبت ہماری حرام ہوگئی۔۔۔ابو یزید نے کہا مَنُ اَرَادَ اَنْ يَنْظُرَ الِى رَجُلٍ مِنَ الرِّجَالِ مَخْبُوءٌ تَحْتَ لِبَاسِ النِّسَاءِ فَلْيَنْظُرُ إِلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عنها۔یعنی جو کسی مرد کو عورتوں کے لباس میں چھپا ہوادیکھنا چاہے تو اس کو کہا کہ فاطمہ کی طرف دیکھ۔اور ابو حفص حدا درحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے۔لَوْلَا أَحْمَدُ خِضْرَوِيَةٌ مَا ظَهَرَتِ الْفَتْوَّةُ۔يعنى احمد بن خضر و یہ نہ ہوتا تو جوان مردی اور مروت پیدا نہ ہوتی۔“ (تلخیص از کشف المحجوب مترجم اردو فصل ۲۳۔ذکر حضرت ابو حامد احمد بن خضرویه) ب۔حضرت شیخ فریدالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ:۔آپ (حضرت احمد خضرویہ) کی بیوی امرائے بلخ میں سے تھی۔اور وہ بھی طریقت میں بے نظیر تھیں۔آپ کے نکاح میں آتے ہی انہوں نے ترک دنیا کو اپنا شغل کیا اور ریاضت مجاہدہ میں مشغول ہوگئیں اور کمال حاصل کیا۔حضرت بایزید بسطامی سے بے تکلفانہ گفتگور ہا کرتی تھی۔آپ کے دل میں بہت غیرت آئی کہ بیوی نے بایزید کے سامنے پردہ کیوں نہ کیا۔لیکن بیوی نے کہا تم میری طبیعت کے محرم ہوا اور تم سے میں اپنی خواہش تک پہنچوں گی۔لیکن بایزید طریقت کے محرم ہیں۔ان سے خدا تک پہنچوں گی۔“ (تذکرة الاوليا وذكر احمد خضرویه باب ۳۳ مترجم اردو شائع کردہ برکت علی اینڈ سنز با رسوم صفحہ ۱۸۳ ظہیر الاصفیاء صفحه۲۷۳ مطبوعہ ۱۹۱۷ء اردو تر جمه تذکرۃ الاولیاء) 66