مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 854
854 حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان کے گھر جایا کرتے تھے تو وہ حضور کو کھانا پیش کرتیں۔( وہ حضرت عبادہ بن صامت کی زوجہ تھیں۔) حضرت ام حرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلایا اور حضور کے سرسے جوئیں نکالنے لگیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہو گئے۔ب۔اسی طرح الادب المفرد میں ہے کہ حضرت سعد کے بازو کی رگ میں غزوہ احزاب کے موقع پر زخم آگیا تو ان کو مدینہ میں رفیدہ نامی ایک عورت کے پاس اس کے گھر میں رکھا گیا وہ ان کا علاج اور مرہم پٹی کرتی تھیں۔خود آنحضرت صلم بھی صبح شام اس عورت کے ہاں سعد کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے رہے۔ج۔اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت عائشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن میں حلوہ کھا رہی تھیں کہ حضرت عمرؓ بھی تشریف لے آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل میں کھانے میں ان کے ساتھ ہو گئے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ”فَاَصَابَتْ يَدَهُ إِصْبَعِی کہ اس اثناء میں حضرت عمرؓ کا ہاتھ میری انگلی کے ساتھ چھو گیا۔( الادب المفرد باب اكل الرجل مع امرته حدیث ۱۰۵۳) و۔بخاری میں ہے:۔عَنْ أَنَسٍ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنُ يَدْخُلُ بَيْتًا بِالْمَدِينَةِ غَيْرَ بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ إِلَّا عَلَى اَزْوَاجِهِ فَقِيْلَ لَهُ قَالَ إِنِّي أَرْحَمُهَا قُتِلَ اَخُوُهَا مَعِي۔“ (بخارى كتاب الجهاد والسير باب فضل من جهز غازيا او خلفه بخير ) حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے گھروں کے علاوہ سارے مدینہ میں صرف اُم سلیم کے گھر میں بالالتزام تشریف لے جاتے تھے۔بعض لوگوں نے حضور سے اس کا سبب دریافت کیا تو حضور نے فرمایا کہ ام سلیم کا بھائی میرے ہمراہ لڑتے ہوئے شہید ہو گیا تھا۔اس لیے میرے دل میں ام سلیم کے لیے خاص رحم ہے۔(صفحہ ۴۱) صحیح مسلم میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضور کے بعد ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما حضرت زید بن ثابت کی بیوی اُم ایمن کے ہاں ان کی ملاقات کے لیے جایا کرتے تھے۔(مسلم كتاب فضائل الصحابة بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أُمِّ ايْمَن ) غرضیکہ کہ بیسیوں حوالے اس قسم کے موجود ہیں۔و۔حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:۔