مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 751
751 پھر حضور تحریر فرماتے ہیں:۔اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اس زمانہ کا جہاد یہی ہے کہ اعلائے کلمہ اسلام میں کوشش کریں۔مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں۔دین متین اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلائیں۔یہی جہاد ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کرے۔“ ( مکتوب بنام حضرت ناصر نواب صاحب مندرجہ رساله درود شریف صفحه ۶۶ مؤلفه حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب ہلالپوری) آخری الفاظ صاف طور پر بتا رہے ہیں کہ تلوار کے جہاد کی ممانعت ابدی نہیں بلکہ عارضی ہے۔اور جب دوسری صورت ظاہر ہوگی یعنی کفار کی طرف سے اسلام کے خلاف تلوار اٹھائی جائے گی اس وقت تلوار کے ساتھ جہاد کرنا واجب ہو گا۔پس یہ ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلامی تعلیم دربارہ جہاد کو ہرگز منسوخ نہیں کیا بلکہ اس پر عمل کیا۔کیونکہ قرآن مجید سے جہاد کی دوہی صورتیں ثابت ہیں:۔اول۔قرآن مجید کی تعلیم اور اس کی خوبیاں دنیا میں پھیلانا جیسا کہ سورۃ فرقان میں ہے۔وَجَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (الفرقان: ۵۳) یعنی قرآن مجید کو دنیا کے سامنے پیش کر ، یہی جہاد کبیر ہے۔مکتوب مندرجہ رسالہ درود شریف صفحہ ۶۶ کی عبارت میں اسی پہلی صورت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ آج کل تو قرآن مجید میں بیان شدہ پہلی قسم کے جہاد کی شرائط موجود ہیں، اس لیے آج کل یہی جہاد ہے جس کا کرنا از روئے تعلیم اسلام واجب ہے۔اور جب دوسری قسم کی شرائط پیدا ہو جائیں گی اس وقت دوسری قسم جہاد ( یعنی تلوار کے ساتھ مدافعانہ جنگ پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔ظاہر ہے کہ ”جہاؤ کے معنی اسلامی اصطلاح میں صرف تلوار کے ساتھ جنگ کرنے ہی کے نہیں بلکہ اسلامی تعلیم پر عمل کرنے اور عمل کی تلقین کرنے کے بھی ہیں۔احراری معترضین جماعت احمد یہ پر اعتراض کرتے وقت صرف ”جہاد“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور ان کی مراد اس سے صرف جہاد سیفی ہوتا ہے۔اس مغالطہ کی حقیقت قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت پر نظر ڈالنے سے واضح ہو جاتی ہے۔يَايُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنْفِقِينَ (التوبه: ۷۳ ) کہ اے نبی کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد کر۔ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کے ساتھ جہاد کے کرنے کا حکم آجانے کے باوجود منافقوں کے خلاف کبھی تلوار نہیں اٹھائی بلکہ ان کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک فرمایا۔یہاں تک کہ عبداللہ