مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 742
742 خاندان کی دیرینہ خدمات کے پیش نظر اس خاندان کی نسبت استعمال فرمایا ہے نہ کہ جماعت احمدیہ کے متعلق۔چنانچہ حضور تحریر فرماتے ہیں:۔مجھے متواتر اس بات کی خبر ملی ہے کہ بعض حاسد بداندیش جو بوجہ اختلاف عقیدہ یا کسی اور وجہ سے مجھ سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں یا جو میرے دوستوں کے دشمن ہیں میری نسبت اور میرے دوستوں کی نسبت خلاف واقعہ امور گورنمنٹ کے معزز حکام تک پہنچاتے ہیں۔اس لئے اندیشہ ہے کہ اُن کی ہر روز کی مفتریانہ کارروائیوں سے گورنمنٹ عالیہ کے دل میں بدگمانی پیدا ہو کر وہ تمام جانفشانیاں پچاس سالہ میرے والد مرحوم میرزا غلام مرتضیٰ اور میرے حقیقی بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی جن کا تذکرہ سرکاری چٹھیات اور سرلیپل گرفن کی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور نیز میری قلم کی وہ خدمات جو میرے اٹھارہ سال کی تالیفات سے ظاہر ہیں سب کی سب ضایع اور برباد نہ جائیں اور خدانخواستہ سرکار انگریزی اپنے ایک قدیم وفادار اور خیر خواہ خاندان کی نسبت کوئی تکدر خاطر اپنے دل میں پیدا کرے۔اس بات کا علاج تو غیر ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ بند کیا جائے کہ جو اختلاف مذہبی کی وجہ سے یا نفسانی حسد اور بغض اور کسی ذاتی غرض کے سبب سے جھوٹی مخبری پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جان شار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں اس خود کاشتہ پودہ کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے۔“ تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحه ۱۹ صفحه ۲۰ مجموعه اشتہارات جلد ۳ صفحه ۲۱) عبارت مندرجہ بالا صاف ہے اور کسی تشریح کی محتاج نہیں۔اس میں حضرت اقدس نے جماعت احمد یہ یا اپنے دعاوی کو سرکار کا خود کاشتہ پودہ قرار نہیں دیا، بلکہ یہ لفظ اپنے خاندان کی گذشتہ خدمات کے متعلق استعمال فرمایا ہے۔ورنہ اپنے دعاوی کی نسبت تو حضرت اقدس نے اسی خط میں صاف طور پر لیفٹیننٹ گورنر کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ میں نے دعوئی خدا کے حکم سے اس کی وحی اور الہام سے مشرف ہو کر کیا ہے۔ملاحظہ ہو تبلیغ رسالت جلدے صفحہ اسطر ۶۔”خدا تعالیٰ نے مجھے بصیرت بخشی اور اپنے پاس سے مجھے ہدایت فرمائی۔“ نوٹ:۔اس سلسلہ میں تفصیل مزید انگریز کی خوشامد کے الزام“ کے جواب میں گذر چکی