مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 733 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 733

733 مولوی کی مجال نہ تھی کہ ایک ہندو کو مسلمان کر سکے۔“ پھر فرماتے ہیں:۔(اشتہار ۲۷ دسمبر ۱۸۹۸ تبلیغ رسالت جلد ۷ صفحه ۶۸) ج ” ان احسانات کا شکر کرنا ہم پر واجب ہے جو سکھوں کے زوال کے بعد ہی خدا تعالیٰ۔کے فضل نے اس مہربان گورنمنٹ کے ہاتھ سے ہمارے نصیب کئے۔۔۔اگر چہ گورنمنٹ کی عنایات سے ہر ایک کو اشاعت مذہب کے لیے آزادی ملی ہے لیکن اگر سوچ کر دیکھا جائے تو اس آزادی کا پورا پورا فائدہ محض مسلمان اٹھا سکتے ہیں اور اگر عمد فائدہ نہ اٹھا ئیں تو ان کی بدقسمتی ہے۔وجہ یہ ہے کہ گورنمنٹ نے کسی کو اپنے اصولوں کی اشاعت سے نہیں روکا لیکن جن مذہبوں میں سچائی کی قوت اور طاقت نہیں کیونکر ان مذہبوں کے واعظ اپنی ایسی باتوں کو وعظ کے وقت دلوں میں جما سکتے ہیں؟۔اس لیے مسلمانوں کو نہایت ہی گورنمنٹ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ گورنمنٹ کے اس قانون کا وہی اکیلے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔“ اشتهار ۲۲ ستمبر ۱۸۹۵ تبلیغ رسالت جلد ۴ صفحه ۲۰ تا ۲۳) ( نیز ملاحظہ ہو تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۴۹۱) پس مطابق مقولہ ہے تنور سے نکل کر دھوپ میں وَبِضِدِهَا تَتَبَيَّنُ الْأَشْيَاء انگریزی نظام حکومت قابل تعریف تھا لیکن اس لئے نہیں کہ وہ اپنی ذات میں آئیڈئیل نظام تھا بلکہ اس لئے کہ اپنے پیشرو سکھ نظام کے مسلمانوں پر ننگ انسانیت مظالم اور جبر و استبداد کے مقابلہ میں اس نظام کی مذہبی رواداری اور شہری حقوق میں عدل و انصاف کا قیام عمدہ اور لائق شکریہ تھا۔مسلمانان ہند کی مثال اس شخص کی سی تھی جو بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں میں پڑا جل رہا ہے اور اس کو کوئی ہاتھ اس آگ میں سے نکال کر دھوپ میں ڈال دے۔اب اگر چہ وہ شخص دھوپ میں ہے لیکن آگ کے شعلوں کی تپش کے تصور سے وہ اس ہاتھ کو رحمت خداوندی جان کر اس کا شکر یہ ادا کرے گا اور اگر ایسا نہ کرے تو کا فرنعمت ہوگا۔پھر یہ جذبات تشکر اسی طرح کے تھے جس طرح مہاجرین حبشہ نے قریش مکہ کے جبر واستبداد کے مقابلہ میں حبشہ کے عیسائی نظام کو ایک فضل خداوندی اور نعمت غیر مترقبہ سمجھا۔یہاں تک کہ دشمنوں کے مقابلہ میں نجاشی کی کامیابی اور کامرانی کے لئے صحابہ رو رو کر دعائیں بھی کرتے رہے۔