مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 710
710 مرد ہوں۔خواہ عورتیں۔چنانچہ اس کا اگلا شعر ہے سَبُّوا وَمَا أَدْرِي لَاتِ جَرِيمَةٍ نجم الہدی۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحری۴ ۵) کہ وہ مجھ کو گالیاں دیتے ہیں اور میں نہیں جانتا کہ وہ کیوں اور کس جرم کے بدلے گالیاں دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔ا دشنام دہی اور چیز ہے اور بیان واقعہ کا گو وہ کیسا ہی تلخ اور سخت ہو دوسری شے ہے ہر یک محقق اور حق گو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ سچی بات کو پورے پورے طور پر مخالف گم گشتہ کے کانوں تک پہنچا 66 دیوے پھر اگر وہ سچ کوسن کر ا فر وختہ ہو تو ہوا کرے۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۱۲) ب۔مخالفوں کے مقابل پر تحریری مباحثات میں کسی قدر میرے الفاظ میں سختی استعمال میں آئی تھی۔لیکن وہ ابتدائی طور پر سختی نہیں ہے بلکہ وہ تمام تحریریں نہایت سخت حملوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں۔مخالفوں کے الفاظ ایسے سخت اور دشنام دہی کے رنگ میں تھے جن کے مقابل پر کسی قدرسختی مصلحت تھی۔اس کا ثبوت اس مقابلہ سے ہوتا ہے جو میں نے اپنی کتابوں اور مخالفوں کی کتابوں کے سخت الفاظ اکٹھے کر کے کتاب مثل مقدمہ مطبوعہ کے ساتھ شامل کئے ہیں جس کا نام میں نے کتاب البریۃ رکھا ہے اور با ایں ہمہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں ابتدا سختی کی مخالفوں کی طرف سے ہے۔اور میں مخالفوں کے سخت الفاظ پر بھی صبر کر سکتا تھا لیکن دو مصلحت کے سبب سے میں نے جواب دینا مناسب سمجھا تھا۔اول یہ کہ تا مخالف لوگ اپنے سخت الفاظ کاختی میں جواب پا کر اپنی روش بدلا لیں اور آئندہ تہذیب سے گفتگو کریں۔دوم یہ کہ تا مخالفوں کی نہایت ہتک آمیز اور غصہ دلانے والی تحریروں سے عام مسلمان جوش میں نہ آویں اور سخت الفاظ کا جواب بھی کسی قد رسخت پا کر اپنی پُر جوش طبیعتوں کو اس طرح سمجھا لیں کہ اگر اس طرف سے سخت الفاظ استعمال ہوئے تو ہماری طرف سے بھی کسی قدر سختی کے ساتھ ان کو جواب مل گیا اور اس طرح وہ وحشیانہ انتقاموں سے دستکش رہیں۔یہ بات بالکل سچ ہے کہ اگر سخت الفاظ کے مقابل پر دوسری قوم کی طرف سے کچھ سخت الفاظ استعمال نہ ہوں تو ممکن ہے کہ اس قوم کے جاہلوں کا غیظ و غضب کوئی اور راہ اختیار کرے۔مظلوموں کے بخارات نکلنے کے