مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 698
698 تمہاری مراد صاحب شریعت سے کیا ہے اگر کہو ”صاحب شریعت“ سے مراد وہ ہے جس کی وحی میں امر اور نہیں ہوتو اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“ گویا حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے مخالفین کو محض ”اس تعریف کی رو سے ملزم کیا ہے۔نہ یہ کہ صاحب شریعت نبی کی تعریف اپنی مسلمہ پیش کی ہے۔چنانچہ حضرت اقدس علیہ السلام نے اس کے آگے جو اپنی وحی ہو پیش کی ہے۔قُل لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ “ (سورة النور : ٣١) اربعین نمبر ۴ روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۴۳۵-۴۳۶) یه قرآن مجید کی آیت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ” تجدید کے رنگ میں نازل ہوئی ہے۔پس حضرت اقدس علیہ السلام کی وحی قرآنی شریعت کی تجدید کر کے از سر نو اس کو دنیا میں شائع کرنے کے لئے ہے۔مستقل طور پر اس میں نہ کوئی نئے اوامر ہیں نہ نوا ہی۔پس آپ کا دعویٰ ” صاحب شریعت ہونے کا نہ ہوا۔بلکہ شریعت کے مجدد ہونے کا ہوا۔چنانچہ اسی صفحہ ۶ اربعین نمبر ۲ طبع اول دسمبر ۱۹۰۰ ء کے حاشیہ پر حضرت اقدس علیہ السلام نے صاف طور پر تحریر فرما دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امر اور نہی میری وحی میں تجدید کے رنگ میں نازل فرمائے ہیں۔اب ظاہر ہے کہ صاحب شریعت نبی اس کو کہتے ہیں۔جس کی وحی میں نئے اوامر اور نئے نواہی ہوں۔جو پہلی شریعت کے اوامر و نواہی کو منسوخ کرنے والے ہوں۔مگر حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی وحی میں ہرگز ایسا نہیں۔لہذا یہ کہنا کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔محض افتراء اور بہتان ہے کہاں الزامی جواب جو حضرت اقدس علیہ السلام نے محولہ عبارت میں دیا ہے۔اور کہاں اپنی طرف سے اپنا ایک عقیدہ بیان کرنا ہے کہا ہم نے جو دل کا دردتم اس کو گلہ سمجھے تصدق اس سمجھ کے مرحبا سمجھے تو کیا سمجھے ۳۲۔دعوائے نبوت اور اس کی نفی اس کے متعلق ہم مفصل بحث مسئلہ ختم نبوت کے ضمن میں کر آئے ہیں۔وہاں سے ملاحظہ ہو۔