مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 690
690 کسی انسان سے نہیں سیکھے گا۔گویا حقائق و معارف قرآن مجید میں اس کا کوئی استاد نہیں ہوگا۔چنانچہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس لحاظ سے میرا بھی کوئی استاد نہیں جس سے میں نے علم دین “یا ” اسرار دین کی تعلیم پائی ہو اور ظاہر ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ کا بلا ترجمہ و تشریح کسی شخص سے پڑھنا۔علم و اسرار دین سیکھنے کے مترادف نہیں ہے کیونکہ الفاظ قرآن اور علم قرآن میں خود قرآن مجید نے فرق کیا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے ” هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَ يُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتب وَالْحِكْمَةَ “ (سورة الجمعه (۳) کہ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے۔آپ لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات ( یعنی الفاظ قرآن ) پڑھتے ، ان کا تزکیہ نفس کرتے اور ان کو کتاب ( یعنی قرآن مجید ) اور حکمت کا علم بھی دیتے ہیں۔اس آیت میں يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ائیت کے الفاظ میں الفاظ قرآن کا ذکر فرمایا ہے اور يُعَلِّمُهُمُ الكتب فرما کر قرآن مجید کے مطالب و معانی اور حقائق و معارف کا تذکرہ فرمایا ہے پس مندرجہ بالا آیت سے صاف طور پر ثابت ہو گیا کہ صرف ” قرآن کا پڑھنا، علیم قرآن حاصل کرنا نہیں ہے۔یا یوں کہو کہ الفاظ قرآن کے کسی شخص سے پڑھنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ علم دین بھی اس شخص سے حاصل کیا گیا۔دوسری عبارت جو معترضین کتاب البریۃ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۱۸۰ حاشیہ سے پیش کرتے ہیں۔اس میں صرف اس قدر ذکر ہے کہ چھ برس کی عمر میں ایک استاد سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن مجید پڑھا۔اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ حضور نے علم دین یا اسرار دین یا قرآن مجید کے حقائق و معارف یا معانی و مطالب کسی شخص سے پڑھے تا یہ خیال ہو سکے کہ حضرت مسیح موعود کی دونوں عبارتوں میں تناقض ہے۔ہمارا دعویٰ ہے کہ کتاب البریہ کی عبارت میں چھ برس کی عمر میں ایک استاد سے قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کا ذکر ہے اور ایام الصلح صفحہ ۱۴۷ کی عبارت میں کسی شخص سے قرآن مجید کے مطالب و معارف سیکھنے کی نفی کی گئی ہے۔گویا جس چیز کی نفی ہے وہ اور ہے اور دوسری جگہ جس چیز کا اثبات ہے وہ اور ہے۔ایک شبہ اور اس کا ازالہ ممکن ہے کوئی معترض یہ کہے کہ سیاق و سباق دیکھنے کی کیا ضرورت ہے دونوں عبارتوں میں قرآن مجید ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ہم تو دونوں جگہ اس کے ایک ہی معنے لیں گئے۔اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک جگہ ایک لفظ بول کر فی کی ہو۔اور دوسری جگہ اس لفظ کا استعمال کر کے اس