مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 559 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 559

559 فرمایا کہ جو بات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہوں تو وہ درست ہوتی ہے (یعنی اس میں غلطی کا امکان نہیں ) ہاں جو بات میں اس وحی الہی کی تشریح میں اپنی طرف سے کہوں تو یاد رکھو کہ میں بھی انسان ہوں ، اجتہاد میں غلطی کرتا ہوں اور درست اجتہاد بھی۔۴۶۔نبی کا الہام بھول جانا حضرت مرزا صاحب اپنے بعض الہامات بھول گئے۔جواب :۔وحی دو قسم کی ہوتی ہے۔(۱) جو لوگوں کے لئے بطور نشان اور بغرض ہدایت نازل ہوتی ہے۔(۲) نبی کی اپنی ذات کے متعلق ہوتی ہے اور اس کا لوگوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔اول الذکر قسم کی وحی نبی کو بھول نہیں سکتی ، ہاں دوسری قسم کی وحی بعض دفعہ خدا تعالیٰ اپنی خاص حکمت کے ماتحت نبی کے لوحِ دل سے محو فرما دیتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں بھی ہے۔سَنُقْرِئُكَ فَلَا تُنسى إِلَّا مَا شَاء الله (الاعلی: ۷۔۸) کہ اے نبی ہم تیرے سامنے قرآن مجید پڑھیں گے اس کو مت بھولنا سوائے اس کے جس کو خدا تعالیٰ خود بھلانا چاہتا ہے۔٢ - يَمْحُوا اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ (الرعد: ۴۰ ) کہ خدا تعالیٰ جس وجی کو چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے مضبوط کر کے دل میں ثبت کر دیتا ہے۔۔بخاری میں ہے عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا يَقْرَءُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَحِمَهُ اللهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا آيَةً أَسْقَطْتُهُنَّ مِنْ سُورَةٍ كَذَا وَكَذَا۔(بخارى كتاب الشهادات باب شهادة الاعملى۔۔۔۔۔۔) کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول خدا نے ایک شخص کو مسجد میں قرآن پڑھتے ہوئے سنا، تو آپ نے فرمایا۔اللہ اس پر رحمت کرے، اس نے فلاں فلاں سورۃ کی فلاں فلاں آیت جو میں بھول چکا تھا مجھے یاد دلا دی۔- یہ ضروری نہیں کہ جو وحی نبی پر نازل ہو وہ سب لوگوں تک پہنچائی جائے۔قرآن مجید سے ثابت ہے کہ کئی ایسے الہامات آنحضرت کو ہوئے جو قرآن مجید میں من وعن مذکور نہیں جیسے وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ (الانفال: ٨ ) وہ اصل وعدہ قرآن میں کہاں ہے؟ نیز آیت وَإِذْ أَسرَّ النَّبِيُّ ( التحريم: ٢) مَا قَطَعْتُمُ مِنْ لَّيْنَةٍ (الحشر: 1)