مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 539
539 خصوصیت مسلم ہے کہ اس کا ہر لفظ با معنی اور برمحل ہوتا ہے۔خصوصاً قرآن مجید کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس میں بلاغت کا یہ کمال اس قدر نمایاں ہے کہ اگر اس کا ایک لفظ بھی بدل دیا جائے تو آیت کا مفہوم اس قدر بگڑ جاتا ہے کہ سیاق و سباق عبارت اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام میں خواہ لفظ سیکھنے کو چلینج کے معنے میں لیا جائے خواہ انٹر چینج (inter change) کے معنے میں، الہام کی زبان بالکل درست اور محاورہ اہلِ زبان کے عین مطابق ہے اور اس پر اعتراض کرنے سے بجز اس کے کہ معترض کی اپنی علمی پردہ دری ہو اور کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔۴۲۔قابل تشریح الہامات ا۔قرآن مجید میں حروف مقطعات كهيعص طس ، طسم حم۔ن۔قيس وغيره وغیرہ کے متعلق بھی مخالفین تمہاری طرح گول مول الہام ہونے کا مضحکہ اڑاتے ہیں۔۲۔تمہارے ہی جیسے دشمنان حق نے حضرت شعیب سے بھی کہہ دیا تھا کہ تمہارے الہامات گول مول ہیں جن کی ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتی۔چنانچہ قرآن مجید میں ہے:۔يُشْعَيْبُ مَا نَفَقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ (هود : (۹۲) کہ اے شعیب ! ہمیں اکثر باتوں کی جو تو کرتا ہے سمجھ نہیں آتی۔۳۔حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ "الاقتصاد فی الاعتقاد میں لکھتے ہیں:۔قرآن مجید کے سب معنی سمجھنے کی ہمیں تکلیف نہیں دی گئی۔۔۔مقطعات قرآنی ایسے حروف یا الفاظ ہیں جو اہل عرب کی اصطلاح میں کسی معنے کے لئے موضوع نہیں۔“ علم الکلام اردو تر جمه الاقتصاد فی الاعتقاد صفحہ ۶۶) ۴۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب ”الفوز الکبیر میں قرآن مجید کی ان آیات کے متعلق جن میں تخصیص نہ ہو لکھتے ہیں:۔اجتهاد را در میں قسم دخلی هست و قصص متعدده را آنجا گنجائش ہست“ (الفوز الکبیر صفحه ۴) کہ اس قسم کے الہامات میں اجتہاد کا راستہ کھلا ہے اور کئی قصوں کی ان آیات کی تشریح میں شامل کئے جانے کی گنجائش ہے۔