مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 538
538 ہو سکتے۔ورڈز آف گاڈ کین ناٹ ایکسچینج ) تذکرہ صفحہ ۷۸ مطبوعہ ۲۰۰۴ء یعنی خدا کے الفاظ تبدیل نہیں اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں لفظ exchange(اینچ) لفظ change کے معنے میں استعمال ہوا ہے۔حالانکہ بلحاظ قواعد و اسلوب اہل زبان یہ لفظ "change" کے معنے میں استعمال نہیں ہوسکتا۔اگر الہام میں لفظ ایکسچینج کی بجائے چینج ہوتا تو درست ہوتا۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ شبہ بھی انگریزی زبان سے ناواقفیت کے باعث پیدا ہوا ہے۔ورنہ انگریزی زبان میں exchange کا لفظ change کے معنے میں استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ انگریزی زبان کی مشہور اور مروج لغت آکسفورڈ ڈکشنری میں لفظ exchange کے معنے change لکھے ہیں۔علاوہ ازیں Marrey's Dictionary میں لفظ exchange کے ماتحت لکھا ہے کہ یہ لفظ change کے معنے میں استعمال ہوتا ہے اور اس کے استعمال کا ثبوت بطور مثال یہ فقرہ لکھا ہے۔"I return again just to the time not with the time exchanged۔" یعنی میں وقت مقررہ پر واپس آیا ہوں۔تبدیل شدہ وقت پر نہیں۔پس انگریزی زبان میں یکسچینج کا لفظ چھینج کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام میں ہوا۔اور اس پر اعتراض کرنا انگریزی زبان سے نا واقفیت کا ثبوت ہے۔ایک اور مفہوم علاوہ ازیں ایکسچینج Exchange کا لفظ مسلمہ طور پر "Inter change" کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اگر اس لحاظ سے الہام کے الفاظ کو دیکھا جائے تو الہام کے معنے یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ آپس میں بدل نہیں سکتے۔مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس قد رافصح اور ابلغ ہوتا ہے کہ اس کا ہر لفظ اپنی جگہ پر نہایت موزوں ہو کر بیٹھتا ہے اور جو جہاں استعمال ہو۔وہ وہاں ہی صحیح معنے دیتا ہے۔اور اگر کسی لفظ کو اپنی جگہ سے ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا لفظ وہاں رکھا جائے تو عبارت کا مفہوم بگڑ جائے گا۔چنانچہ اعلیٰ کلام کی یہ