مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 449
449 قادیان میں طاعون پڑنے کے متعلق تفصیل دوسری جگہ پیشگوئیوں پر غیر احمدی علماء کے اعتراضات کے جواب میں درج ہے۔اس جگہ صرف اتنا بیان کرنا ضروری ہے کہ حضرت اقدس نے کہیں بھی نہیں لکھا کہ قادیان میں طاعون نہیں آئے گی۔بلکہ دافع البلاء میں تو صاف لکھا ہے کہ قادیان میں طاعون تو آئے گی مگر طاعون جارف یعنی بر بادی بخش نہیں آئے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔نوٹ:۔بے شک ایمان کامل والوں کو بھی اس وعدہ میں شامل کیا گیا ہے، لیکن کامل اور ناقص ایمان والوں میں امتیاز مشکل ہے۔مگر ظاہری مکان کی چار دیواری میں رہنے والوں کے لئے کامل ایمان کی شرط نہیں۔لہذا اسی کو اس جگہ دلیل صداقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔جس کا تمہارے پاس سوائے بہانہ سازی کے کوئی جواب نہیں۔آٹھویں دلیل:۔خدا تعالیٰ یہاں اپنے بچے انبیاء اور ان کی جماعتوں کو عَلَى رَغْمِ أَنْفِ الْأَعْدَاءِ ترقیات اور پے بہ پے فتوحات عطا فرماتا ہے وہاں جھوٹے مدعیان نبوت کو ہرگز ترقی اور کامیابی نہیں ہوتی اور خسران اور شکست کا طوق ان کے گلے کا ہار ہوکر رہ جاتا ہے۔قرآن مجید نے اس زبر دست معیار صداقت کا ذکر متعدد مقامات پر فرمایا ہے:۔ا فرمایا: فَإِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الْغَلِبُونَ (المائدة : ۵۷ ) یا درکھو کہ خدا ہی کی جماعت ہمیشہ غالب اور کامیاب ہوتی ہے۔۲۔اور اس کے بالمقابل کذابوں کی جماعت کا ذکر اس طرح فرماتا ہے۔أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَنِ هُمُ الْخَسِرُونَ (المجادلة: ۲۰) یا درکھو کہ شیطانی گروہ ہمیشہ نا کام ونامراد ہوتا ہے اور گھائے اور خسارے میں رہتا ہے۔اس جگہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح معلوم ہو کہ ”غالب گروہ کون سا ہے۔کیونکہ ہر ایک جماعت یہی دعوی کرتی ہے کہ وہ غالب ہے۔۔اس اہم سوال کو خدائے تعالیٰ نے نہایت وضاحت کے ساتھ حل فرمایا ہے۔فرمایا: آفلا يَرَوْنَ أَنَا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغُلِبُونَ (الانبياء: ۴۵ ) کہ یہ لوگ جو مدعی نبوت کے منکر ہیں۔ایک زمین کے ٹکڑے کی طرح ہیں۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم اس زمین کو آہستہ آہستہ چاروں طرف سے کم کرتے چلے جا رہے ہیں۔کیا اب بھی وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہی ”غالب“