مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 448 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 448

448 ۲۔یہ بد دعا ابوجہل نے کی تھی۔جیسا کہ بخاری کتاب التفسير باب و اذ قالوا اللهم ان كان هذا هو الحق میں مذکور ہے اور ابو جہل جنگ بدر میں مقتول ہوا اور خدا تعالیٰ نے اس جنگ کے متعلق وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللہ زلمی کا ارشاد فرمایا ہے۔گویا کفاران آسمانی پتھروں کے ساتھ ہلاک کئے گئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے مارے گئے تھے۔ابو جہل بھی انہیں کافروں میں سے تھا اس نے ڈبل بددعا کی تھی۔(۱) اهْطِر عَلَيْنَا حِجَارَةً (۲) أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابِ ایم۔پہلی بددعا کے مطابق وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے نکلے ہوئے آسمانی پتھروں کا نشانہ بنا اور ہلاک ہوا اور دوسری بددعا کے مطابق وہ مقتول ہوا اور قرآن مجید نے مسلمانوں کے ہاتھوں سے مارے جانے کو عذاب قرار دیا ہے۔جیسا کہ فرمایا۔قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبَهُمُ اللهُ بِأَيْدِيكُم (التوبة: ۱۴) کہ کافروں کو قتل کرو۔خدا چاہتا ہے کہ ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے پس ابو جہل کی بددعا کے مطابق خدا نے اس کو ڈبل ہی سزا دی۔گویا آسمانی پتھر بھی اس پر پڑے اور عذاب الیم بھی آیا۔یادر ہے کہ آیت وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ أَنْتَ فِيهِمُ (الانفال: ۳۴) میں یہ صرف وعدہ تھا کہ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ہیں ان پر عذاب نہیں آئے گالیکن جب حضور بعد از ہجرت مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو اس کے بعد ابو جہل اور اس کے ساتھیوں پر عذاب آیا۔انت فيهم سے مراد آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں موجود ہوتا ہے۔ساتویں دلیل:۔فَانْجَيْنَهُ وَ أَصْحَب السَّفِينَةِ وَجَعَلْنَهَا آيَةً لِلعَلَمِينَ - (العنكبوت : ١٦) کہ ہم نے حضرت نوح علیہ السلام اور آپ کے ساتھ کشتی میں بیٹھنے والوں کو بچا لیا اور اس بچنے کو تمام جہان کے لئے بطور صداقت نوح علیہ السلام نشان مقرر کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آپ کی پیشگوئی کے مطابق ہند میں سخت طاعون پڑی اور پنجاب میں بھی بشدت آئی مگر حضور نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے۔انى أحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ وَ أَحَافِظُكَ خَاصَةٌ ( الهام ۱۹۰۲ ، نزول مسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۰ ) کہ میں ان تمام لوگوں کو جو تیرے گھر کی چار دیواری کے اندر ہوں گے طاعون سے محفوظ رکھوں گا۔خاص کر تیری ذات کو۔چنانچہ آج تک حضور علیہ السلام کے گھر کے اندر کبھی کوئی چوہا بھی نہیں مرا۔لہذا آپ کی صداقت ثابت ہے اور حضور علیہ السلام خود بھی طاعون سے اس تحدی کے باوجود محفوظ رہے۔