مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 444
444 ماتحت ہے۔یعنی میں نے اپنے کمال فصاحت اور بلاغت کے متعلق جو کچھ کہا وہ سب قرآن مجید کے ج- ضرورة الامام - صفحہ ۲۲ پر فرمایا : - قرآن شریف کے معجزہ کے کل پر عربی بلاغت فصاحت کا نشان دیا گیا ہوں۔کوئی نہیں کہ جواس کا مقابلہ کر سکے۔“ (ضرورۃ الامام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۹۶) ۲۔میعاد کا مقرر کرنا معجزہ کی شان کو کم نہیں کرتا جیسا کہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:۔لَوْ قَالَ نَبِيٍّ آيَةً صِدْقِى آنِى فِى هَذَا الْيَوْمِ أُحَرِّكْ اِصْبُعِي وَلَا يَقْدِرُ اَحَدٌ مِنَ الْبَشَرِ عَلَى مُعَارِضَتِى فَلَمْ يُعَارِضُهُ اَحَدٌ فِى ذَالِكَ الْيَوْمِ ثَبَتَ صِدْقُهُ“ (الاقتصاد في الاعتقاد صفحه ۹۴) یعنی اگر مدعی نبوت یہ کہے کہ میری صداقت کا یہ نشان ہے کہ آج میں اپنی انگلی کو حرکت دیتا ہوں مگر انسانوں میں سے کوئی میرے مقابلہ پر ہرگز ایسا نہیں کر سکے گا۔پس اگر فی الواقعہ اس دن کو ئی شخص اس کے مقابلہ میں انگلی نہ ہلا سکے تو اس مدعی کی صداقت ثابت ہوگئی۔۲۔چونکہ آپ نے اعجازی کلام کے جواب کے لئے انعام مقرر کیا تھا اس لئے اس کے واسطے کوئی میعاد مقرر ہونی چاہیے تھی تا کہ انعام کا فیصلہ ہو سکے کیونکہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔اعجاز احمدی کی مزعومہ غلطیاں باقی رہا یہ اعتراض کہ اعجاز احمدی میں غلطیاں ہیں ایسا ہی ہے جیسے عیسائیوں کا اعتراض قرآن مجید کی عربی پر ہے۔إِنَّ فِيْهِ لَحْنَّا نَحْوَ اِنْ هَذَانِ لَسَاحِرَان عَلَى قِرَاءَةِ أَنَّ الْمُشَدَّةِ (نبراس شرح الشرح العقا ندفى صفحه ٤٣٩) طَعْنُ الْمَلَاهِدَةِ فِى اِعْجَازِ الْقُرْآنِ ) نبراس صفحہ ۴۳۸ ) کہ ملحدین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ قرآن میں غلطیاں ہیں جیسا کہ اِنْ هذَانِ لَسَاحِرَان والی آیت میں جو قراءة ان مشدہ والی ہے اس میں اِنَّ هَذَینِ چاہیے۔اسی طرح قرآن مجید میں آتا ہے کہ نما سقط في أَيْدِيهِمْ (الاعراف: ۱۵۰) اس کی ترکیب کے متعلق روح المعانی میں لکھا ہے: ذَكَرَ بَعْضُهُمْ إِنَّ هَذَا التَّرْكِيْبُ لَمْ يُسْمَعُ قَبْلَ نُزُولِ الْقُرْآنِ وَلَمْ تَعْرِفُهُ الْعَرَبُ وَلَمْ يُوجَدُ فِى اَشْعَارِهِمْ وَ كَلَامِهِمْ (روح المعانی زیر آیت