مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 443 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 443

443 وَتَدَمَّرَ۔“ 66 اعجاز مسیح کے متعلق پانچ سورو پید انعام کا اشتہار دیا اورکھا۔فَإِنَّهُ كِتَابٌ لَيْسَ لَهُ جَوَابٌ وَمَنْ قَامَ لِلْجَوَابِ وَ تَنَمَّرَ فَسَوْفَ يَرَى أَنَّهُ تَنَدَّمَ اعجاز مسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ ٹائٹل پیج ) کہ یہ وہ کتاب ہے جس کا کوئی جواب نہیں اور جو شخص اس کے جواب کے لئے کھڑا ہو گا وہ دیکھے گا کہ وہ کس طرح نادم اور شرمندہ کیا جائے گا۔پھر فرمایا:۔وَإِنِ اجْتَمَعَ آبَاءُ هُمْ وَأَبْنَاءُ هُمْ۔وَأَكَفَاءُ هُمْ وَعُلَمَاءُ هُمْ۔وَحُكَمَاءُ هُمُ وَفُقَهَاءُ هُمْ۔عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا التَّفْسِيرِ۔فِى هَذَا الْمُدَى الْقَلِيلِ الْحَقِيرِ۔لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ كَالظَّهِيرِ » (اعجاز مسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۷،۵۶) اگر ان کے باپ اور ان کے بیٹے اور ان کے ہمسر اور ان کے علماء اور ان کے حکماء اور ان کے فقہاء ( غرضیکہ چھوٹے بڑے) سب مل کر اس مدت میں جس میں میں نے اس کو لکھا ہے اس جیسی کتاب لکھنا چاہیں تو کبھی بھی نہ لکھ سکیں گے۔چنانچہ جب مولوی محمد حسین فیض ساکن بھیں ضلع جہلم نے اس کا جواب لکھنا چاہا تو حضرت اقدس علیہ السلام کو الہام ہوا۔مَنَعَهُ مَانِعٌ مِّنَ السَّمَاءِ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اسے جواب لکھنے سے روک دیا ہے۔چنانچہ وہ ابھی نوٹ ہی تیار کر رہا تھا کہ ایک ہفتہ کے اندر مر گیا اور پیر گولڑوی نے اس کے لکھے ہوئے نوٹوں کو میعاد مقررہ گزرجانے کے بعد سرقہ کر کے اپنے نام سے شائع کر دیا اور اس کا نام سیف چشتیائی رکھا۔تفصیل دیکھو ( نزول مسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۵۲ تا ۴۵۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اعجازی کتب کے لئے میعاد اس لئے مقرر کی کہ (۱) یہ اعتراض نہ ہو سکے کہ قرآن کا مقابلہ کیا ہے اور اس طرح سے قرآن کے معجزہ میں کسی قسم کا شبہ نہ پڑ سکے۔کیونکہ حضرت اقدس نے فرمایا ہے کہ مجھے جو اعجازی کلام کا معجزہ دیا گیا ہے۔وہ قرآن کے ماتحت اور اس کے ظل کے طور پر ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں:۔”ہمارا تو یہ دعویٰ ہے کہ معجزہ کے طور پر خدا تعالیٰ کی تائید سے اس انشاء پردازی کی ہمیں طاقت ملی ہے تا معارف حقائق قرآنی کو اس پیرا یہ میں بھی دنیا پر ظاہر کریں۔“ الْقُرْآنُ ( نزول مسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۳۷) ب كُلَّمَا قُلْتُ مِنْ كَمَالِ بَلاغَتِى فِي الْبَيَانِ فَهُوَ بَعْدَ كِتَابِ اللَّهِ الجد النور۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۴ ۴۶ حاشیه )