مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 432
432 اللهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ مَتَاع فِي الدُّنْيا (يونس : ۷۱،۷۰) سے معلوم ہوتا ہے کہ مفتری کو دنیا میں فائدہ ملتا ہے یعنی اس کو لمبی مہلت ملتی ہے۔(تلخیص از محمدیہ پاکٹ بک صفحه ۳۰۴٬۳۰۳ طبع ۱۹۵۰ء ایڈیشن دوم ) جواب:۔متاح في الدُّنیا سے مراد لمبی مہلت نہیں بلکہ تھوڑی مہلت ہے۔چنانچہ خود تم نے اگلے ہی صفحے پر قرآن مجید کی ایک دوسری آیت اس مقصد کے لئے نقل کر کے خود ہی اس کا ترجمہ کر کے اسے واضح کر دیا ہے:۔إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللهِ الكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ قَلِيْلَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمُ (النحل: ۱۱۸،۱۱۷) تحقیق مفتری نجات نہیں پائیں گے۔انہیں نفع تھوڑا ہے اور عذاب دردناک۔“ غرضیکہ قرآن مجید نے مفتری کے لئے لمبی مہلت کہیں بھی تسلیم نہیں کی جو۲۳ سال تک دراز ہو جائے ہاں تھوڑی مہلت خواہ وہ ایک سال ہو یا دو یا پانچ سال یعنی ہماری بیان کردہ انتہائی مہلت سے کم ہو تو اس سے ہمیں انکار نہیں۔اگر مفتری کو اتنی لمبی مہلت ملے جتنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آیت لَوْ تَقَوَّل“ کی دلیل باطل ہو جاتی ہے کیونکہ مخالف بآسانی کہہ سکے گا کہ فلاں مدعی نبوت بھی با وجود جھوٹا ہونے کے تَقَولَ “ کرتا رہا اور ۲۳ سال تک خدا تعالیٰ نے اس کی قطع و تین نہ کی۔تو حضور کا ۲۳ 66 سال تک زندہ رہنا کس طرح سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور عدم تقول پر دلیل ہو سکتا ہے؟ یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ آیت خاص ہے یعنی اگر با وجود اتنی بڑی نعمت کے آپ جھوٹا الہام بناتے تو ہلاک کئے جاتے۔یہ تو قابل قبول نہیں۔کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ خدا کا کوئی نبی بھی ( خواہ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہزاروں حصہ کم انعام الہی ہوا ہو ) اور خواہ وہ کتنے ہی کم درجہ کا ہو۔وہ خدا تعالیٰ پر افتراء کر سکے۔یعنی اپنے پاس سے الہام گھڑ کر خدا کی طرف منسوب کر سکے۔چہ جائیکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس کا امکان تسلیم کیا جائے۔پس جب یہ ممکن ہی نہیں کہ خدا کا کوئی سچا نبی جھوٹا الہام بنائے تو پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ اگر فلاں سچا نبی جھوٹا الہام بنائے تو ہم اسے ہلاک کر دیں اور پھر اس کو اس امر کی دلیل کے طور پر پیشکر لیا کہ یہ سچا ہے۔اصل بات یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کا ابتداء سے یہ قانون ہے کہ وہ جھوٹا دعویٰ نبوت کرنے والوں یا اپنے پاس سے جھوٹا الہام ووحی گھڑ کر خدا کی طرف منسوب کرنے والوں کو ۲۳ سالسے کم عرصہ میں ہی تباہ و برباد کردیا کرتا ہے اور اس مسئلہ پر تورات، انجیل اور قرآن مجید متفق ہیں۔