مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 354 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 354

354 حضرت شیخ الاسلام علامہ ابن حجر العسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کا مندرجہ ذیل قول حضرت امام ابن حجر ہیثمی نقل کرتے ہیں:۔إِنَّهُ لَا يُصَلِّي نَبِيٌّ عَلَى نَبِيِّ وَ قَدْ جَاءَ لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا۔“ (الفتاوى الحديثية صفحه ۲۳۶ دار احياء التراث العربي بيروت الطبعة الاولى) یعنی علامہ زرکشی فرماتے ہیں کہ نبی نبی کا جنازہ نہیں پڑھایا کرتے اور حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اگر وہ زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا۔اس کے بعد امام ابن حجر اہیمی لکھتے ہیں:۔وَلَا بُعْدَ فِي إِثْبَاتِ النُّبُوَّةِ لَهُ مَعَ صِغَرِهِ لَأَنَّهُ كَعِيْسَى الْقَائِلُ يَوْمَ وُلِدَ ( إِنِّي عَبْدُ اللهِ امْنِي الْكِتَب وَجَعَلَنِى نَبِيًّا ) وَكَيَحْيَ الَّذِي قَالَ تَعَالَى فِيْهِ وَأَتَيْنَهُ الْحُكْمُ صبيا۔“ (الفتاوى الحديثية صفحه ۲۳۶ - دار احياء التراث العربي بيروت الطبعة الاولى ) که صاحبزاده حضرت ابراہیم کا بچپن کی عمر ہی میں نبی ہونا بعید از قیاس نہیں کیونکہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح تھے۔جنہوں نے اپنی پیدائش ہی کے دن کہا تھا کہ میں نبی ہوں اور نیز آپ حضرت سخی کی طرح ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس کو بچپن ہی کی عمر میں حکمت عطا فرمائی۔پھر فرماتے ہیں: وَبِهِ يُعْلَمُ تَحْقِيقُ نُبُوَّةِ سَيِّدِنَا إِبْرَاهِيمَ فِي حَالِ صِغَرِهِ۔“ ہی نبی تھے۔(الفتاوى الحديثية صفحہ ۲۳۶- دار احياء التراث العربي بيروت الطبعة الاولى) کہ ان دلائل سے یہ بات پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ حضرت صاحبزادہ ابراہیم بچپن کی عمر میں گویا حضرت امام ابن حجر ابیشی امام شیخ بدرالدین الزرکشی اور حضرت شیخ الاسلام حافظ ابن حجر العسقلانی کے مندرجہ بالا اقوال و تحریرات سے ثابت ہوا کہ حضرت ابراہیم ابن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کم از کم حضرت امام ابن حجر ہیثمی کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ آیت خاتم النبیین کے نزول کے بعد پیدا ہونے کے باوجود نبی تھے۔مسیح موعود بعد نزول نبی اللہ ہوگا ٩- مَنْ قَالَ بِسَلْبِ نُبُوَّتِهِ كَفَرَ حَقًّا (حج الکرامه از نواب صدیق حسن خان صفحه ۴۳۱ مطبع شاہجہانی واقع بلدہ بھوپالی) کہ امام جلال الدین صاحب سیوطی فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ کہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول نبی نہ ہوں گے وہ پکا کافر ہے۔