مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 284 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 284

284 اتفاق ہوتا لیکن ایسا نہیں۔پس اس قراءت کے ہوتے ہوئے بھی غیر احمدیوں کے بیان کردہ معنی درست نہیں ہو سکتے۔وجہ دہم :۔اس کے بعد فرمایا وَ يَوْمَ الْقِيمَ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا (النساء: ۱۲۰) کہ وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہو گا یعنی ان کے خلاف گواہی دے گا اور اگر اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ وہ سب مان جائیں گے تو گواہی کیسی اور اس گواہی کی کیا ضرورت؟ کیونکہ گواہی کی ضرورت تو ہمیشہ انکار کے بعد ہوتی ہے۔قیامت کے ساتھ گواہی کو مخصوص کرنا بتاتا ہے کہ مسیح دنیا میں نہیں آئے گا۔ورنہ کہنا چاہیے تھا کہ وہ دنیا میں آکر گواہی دے گا۔مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے نون ثقیلہ کے معنی حال کے بھی کئے ہیں۔وَإِنَّ مِنكُمْ لَمَنْ تَيُبَظِنَنَّ (النساء: ۷۳ ) کا ترجمہ ” کوئی تم میں سے ستی کرتا ہے۔“ (تفسیر ثنائی زیر آیت وَإِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَيْبَظِنَّ۔۔۔نوٹ:۔بعض غیر احمدی کہا کرتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول نے جو اس آیت کا ترجمہ کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قبل موتہ سے مراد حضرت مسیح کی وفات لیتے تھے لیکن یہ صریحا مغالطہ ہے۔حضرت خلیفہ اول موتہ کی ضمیر کا مرجع کتابیں ہی لیتے تھے اور جو تر جمہ غیر احمدی «فصل الخطاب جلد ۲ صفحہ ۸۰‘ کے حوالہ سے پیش کرتے ہیں، اس میں اس کی موت سے پہلے“ کے الفاظ ہیں۔یہ تصریح موجود نہیں کہ اس سے مراد کتابی ہے یا حضرت مسیح۔ورنہ حضرت خلیفہ اول کامذہب وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتب - الخ ( النساء:۱۲۰) کا ترجمہ یہ ہے اور نہیں کوئی اہل کتاب مگر ضرور 66 ایمان لائے گا ساتھ اس قتل کے قبل موت اپنی کے۔“ ย الحکم جلد نمبر ۳۳۔مؤرخه ار ستمبر ۱۹۰۱، صفحها احاشیه ) حضرت ابو ہریرہ کا اجتہاد بعض غیر احمدی علماء حضرت ابو ہریرہ کا اجتہاد بخاری کے حوالہ سے پیش کیا کرتے ہیں کہ انہوں نے نزول مسیح کی حدیث کو وَ اِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ والی آیت کے ساتھ منطبق کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت سے نزول مسیح ہی مراد ہے نہ کچھ اور۔جواب: اس کا یہ ہے کہ یہ حضرت ابو ہریرہ کا اپنا اجتہاد ہے جو حجت نہیں کیونکہ حضرت ابو ہریرہ راوی تو