مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 276
276 ایک جماعت کا قول ہے کہ انہ کی ضمیر کا مرجع قرآن کریم ہے۔پھر تفسیر جامع البیان میں بھی اس آیت وإِنه لَعِلْمُ السَّاعَةِ (الزخرف: (۶۲) کے نیچے لکھا ہے کہ وَقِيلَ الضَّمِيرُ لِلْقُرآنِ کہ بعض نے اس ضمیر کا مرجع قرآن کریم کو ٹھہرایا ہے۔پھر تفسیر مجمع البیان میں اس آیت وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ (الزخرف: ۶۲) کے ماتحت لکھا ہے۔وَقِيلَ إِنَّ مَعْنَاهُ أَنَّ الْقُرْآنَ لَدَلِيْلٌ لِلسَّاعَةِ ِلأَنَّهُ اخِرُ الْكُتُبِ کہ بعض نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ قرآن کریم قیامت کی دلیل ہے کیونکہ وہ آخری کتاب ہے۔اگر تمہاری بات ہی کو درست فرض کر لیا جائے تو اس صورت میں ان کی ضمیر کا مرجع ابن مریم مثلاً ( یعنی مثیل مسیح) ماننا ہوگا۔مثل کے معنی لغت میں اَلشَّبُهُ وَالنَّظِيرُ (المنجد زیر ماده مثل) مانند اور نظیر کے ہیں یعنی مثیل۔وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصدُّونَ “ (الزخرف: ۵۸) کہ جب ابن مریم کا مثیل بھیجا جائے گا تو خود آنحضرت کی قوم کہلانے والے لوگ اس پر تالیاں بجائیں گے۔نیز منتهی الارب فی لغات العرب زیر مادہ مثل میں بھی مشکل کے معنے ماند اور ہمتا او نظیر کے لکھے ہیں۔چنانچہ ہمارے بیان کردہ ان معنوں کی تائید شرح لشرح العقائد اسمی بالنبر اس ( جو اہلسنت کے عقائد کی معتبر کتاب ہے ) کے حاشیہ کی مندرجہ ذیل عبارت سے ہوتی ہے۔قَالَ مَقَاتَلُ ابْنُ سُلَيْمَانَ وَ مَنْ تَابَعَهُ مِنَ الْمُفَسِرِينَ فِي تَفْسِيرِ قَوْلِهِ تَعَالَى وَ إِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ۔قَالَ هُوَ الْمَهْدِى يَكُونُ فِى اخِرِ الزَّمَانِ وَ بَعْدَ خُرُوجِهِ تَكُونُ أَمَارَاتُ السَّاعَةِ (شرح لشرح العقائد المسمّى بالنبراس صفحہ ۴۴۷ حاشيــه لـحـافـظ محمد عبد العزيز الفرهاروی ۱۳۱۳ھ ) کہ مقاتل بن سلیمان اور اس کے ہم خیال مفسرین نے لکھا ہے کہ إِنَّهُ لَعِلم لِلسَّاعَةِ سے مراد مہدی ہے جس کی آمد کے بعد قیامت کی نشانیاں ظاہر ہوں گی۔نوٹ:۔تالیاں بجانے کی قرآنی پیشگوئی کو غیر احمدی قریباً ہر مناظرہ کے موقع پر پورا کیا کرتے ہیں حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔اِنَّمَا التَّصْفِيْقُ لِلنِّسَاءِ (بخارى كتاب السحو باب الاشارة في الصلوة جلد ا صفحه ۴ ۸ مصری و تجرید بخاری مترجم حدیث صفحہ ۳۸۷) یعنی تالیاں بجانا صرف عورتوں کا کام ہے۔(خادم)